ووہان (شِنہوا) چین نے دنیا کے تیسرے طویل ترین دریائے یانگسی پر بڑھتی ہوئی بحری نقل و حمل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے عظیم آبی گزرگاہ کے ایک منصوبے کی تعمیر شروع کر دی، اس منصوبے میں جہاز رانی کا وہ لاک بھی شامل ہے جس کے بارے میں توقع ہے کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا اندرونی آبی لاک بن جائے گا۔
چینی نائب وزیراعظم ڈنگ شوئے شیانگ، جو کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کی قائمہ کمیٹی کے رکن بھی ہیں، نے پیر کے روز چین کے وسطی صوبے ہوبے کے شہر یی چھانگ میں افتتاحی تقریب کے دوران تھری گورجز آبی گزرگاہ نامی نئے منصوبے کا باضابطہ آغاز کیا۔
77.2 ارب یوآن (تقریباً 11.3 ارب امریکی ڈالر) مالیت کے اس منصوبے کے تحت تھری گورجز ڈیم کے موجودہ جہاز رانی لاک کے شمال میں 5سطح پر مشتمل دوہرے ٹریک والا نیا شپ لاک تعمیر کیا جائے گا۔ تھری گورجز ڈیم دنیا کا سب سے بڑا آبی وسائل اور پن بجلی کا منصوبہ شمار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دریا کے زیریں حصے میں واقع ایک چھوٹے ڈیم کی جہاز رانی سہولیات کو بھی جدید بنایا جائے گا۔
منصوبے کی تکمیل کے بعد تھری گورجز کی سالانہ مال برداری صلاحیت تقریباً دوگنی ہو کر33 کروڑ 60 لاکھ ٹن تک پہنچ جائے گی۔
یہ منصوبہ چین کے 15ویں 5 سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران شروع ہونے والا پہلا بڑا تعمیراتی منصوبہ ہے۔ یہ دور چین کے اس ہدف کے حصول کے لئے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے جس کے تحت ملک 2035 تک بنیادی طور پر سوشلسٹ جدیدیت کو عملی شکل دینا چاہتا ہے۔
چین نے دنیا کے تیسرے طویل ترین دریا پر عظیم آبی گزرگاہ کے منصوبے کا آغاز کر دیا



