کہتے ہیں کہ مٹی زرخیز ہو تو نامور شخصیات خودبخود تاریخ کے افق پر چمکنے لگتی ہیں۔ ضلع خوشاب اور اس کے گردونواح کی مٹی بھی ایسی ہی مردم خیز ہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) کی تاریخ کی سب سے معزز، نفیس اور مقبول ترین اداکاراؤں میں شمار ہونے والی طاہرہ واسطی کا تعلق بھی اسی دھرتی سے تھا۔ وہ نہ صرف ایک بے مثال اداکارہ تھیں بلکہ ایک بہترین مصنفہ بھی تھیں، جنہوں نے اپنی باوقار شخصیت اور لازوال فن سے چار دہائیوں تک شوبز انڈسٹری پر راج کیا۔
طاہرہ واسطی 1944ء میں برٹش انڈیا کے عہد میں خوشاب (سرگودھا ڈویژن، پنجاب) میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی ایام اسی خطے میں گزارے اور اپنی ابتدائی تعلیم قریبی شہر سرگودھا سے حاصل کی۔ بعد ازاں، وہ کچھ عرصے کے لیے لاہور منتقل ہوئیں اور پھر مستقل طور پر کراچی شفٹ ہو گئیں، جہاں ان کے فنی سفر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
طاہرہ واسطی کی شادی پاکستان ٹیلی ویژن کے معروف اور سینئر اداکار و انگریزی نیوز کاسٹر رضوان واسطی (مرحوم) سے ہوئی۔ یہ شوبز انڈسٹری کی ایک انتہائی معزز اور پڑھی لکھی فیملی تصور کی جاتی تھی۔ طاہرہ واسطی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ان کی بیٹی لیلیٰ واسطی اور بیٹے عدنان واسطی نے بھی فن کی دنیا میں قدم رکھا اور وہ آج بھی شوبز انڈسٹری کا ایک فعال حصہ ہیں۔
فنی سفر کا آغاز اور عروج
طاہرہ واسطی نے سنہ 1968ء میں پاکستان ٹیلی ویژن سے اپنی اداکاری کا باقاعدہ آغاز کیا۔ ان کا پہلا ڈرامہ سیریل جیب کترا تھا، جس میں ان کی کارکردگی کو سراہا گیا۔ تاہم، انہیں ملک گیر شہرت اور مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچانے والے ڈرامے افشاں اور آخری چٹان تھے۔
وہ 1960، 1970، 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں پاکستان کی سب سے کامیاب اور مصروف ترین اداکاراؤں میں سے ایک تھیں۔ ان کا اندازِ گفتگو، چہرے کے تاثرات اور شاہی دبدبہ ان کی پہچان بنے۔ خاص طور پر تاریخی ڈرامے شاہین میں ان کا نبھایا گیا ملکہ ازابیلا آف کاسٹائل کا کردار آج بھی ٹی وی تاریخ کے چند یادگار ترین کرداروں میں شمار ہوتا ہے۔
وہ ایک منفرد اسٹائل کی نفیس، باوقار خاتون اور ہمہ جہت اداکارہ تھیں، جنہوں نے ہر کردار میں حقیقت کا رنگ بھرا۔ ان کے مشہور اور یادگار ڈراموں کی فہرست طویل ہے، جن میں درج ذیل شامل ہیں:
شمع، افشاں، دلیز (فاطمہ ثریا بجیا کے شاہکار ڈرامے)
شاہین، آخری چٹان، غرناطہ (تاریخی ڈرامے)
کشکول، جانگلوس، ہیر وارث شاہ
ٹیپو سلطان، رات، ہرجائی
دل دریا، مامتا، مورت، دوراہا، فشار، خلیج، شام سے پہلے اور “اس کی بیوی”۔
ادا کاری کے ساتھ ساتھ وہ ایک بہترین رائٹر (مصنفہ) بھی تھیں۔ ان کی تحریری اور ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2005ء میں بیسٹ رائٹر کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
طاہرہ واسطی ایک طویل عرصے تک عارضہ قلب (دل کے مرض) اور شوگر (ذیابیطس) کی علامات سے نبردآزما رہیں۔ بالآخر 11 مارچ 2012ء کو یہ درخشندہ ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا اور وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔
طاہرہ واسطی بھلے ہی آج ہم میں موجود نہیں، لیکن ان کا وقار، ان کا منفرد انداز اور ان کا فن پاکستان ٹیلی ویژن کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ضلع خوشاب اور جوہرآباد کی عوام کو اپنی اس عظیم بیٹی پر ہمیشہ فخر رہے گا.
آپکے حقیقی بھائی مسعود حیدر شاہ جوہرآباد کے مشہور وکیل اور رکن بار کونسل ہیں۔



