ماڑی انڈس کے ہزار سالہ مندر: دریائے سندھ کے کنارے ایک گم شدہ تہذیب

تحریر: حارث بٹ

ماڑی انڈس شہر سے پہاڑی کی چوٹی تقریباً سات سے آٹھ سو فٹ بلند ہے۔ سامنے دریا سندھ بہتا ہے۔ اس دریا کی خوبی یہ ہے کہ ہر جگہ سے اس کا نظارہ کچھ اور ہوتا ہے ۔ سکردو میں دریائے سندھ کے مناظر کچھ اور ہیں اور سکھر میں کچھ اور۔ پہاڑی کے دامن میں ماڑی کا قصبہ پھیلا ہوا ہے۔ اسی پہاڑی پر کل کے مندر اور آج کے کھنڈر ہیں۔ سامنے نمک کے پہاڑ ہیں۔ ساتھ ہی کوہاٹ سے آنے والا ایک نالہ دریائے سندھ میں بھی گرتا ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ چار مختلف حصوں میں اتنے اتنے ہی بڑے حصوں کے ساتھ دریائے سندھ میں گرتا ہے۔ اسی پہاڑی پر دل کش مندر اب کھنڈر کی صورت موجود ہیں۔ تقریباً دو سو کلومیٹر کے اس علاقے میں سات مندر موجود ہیں۔ ان سات میں بلوٹ اور کافر کوٹ کے مندر بھی شامل ہیں۔ روایت ہے کہ کشمیر کی ہندو شاہی سلطنت نے آٹھویں صدی عیسوی سے گیارہویں صدی عیسوی کے درمیان یہ مندر بنوائے تھے۔ ان کا طرز تعمیر عام جو مندر اب ملتے ہیں یا قدیم مندروں سے بالکل الگ ہے۔ اس میں کشمیری طرز بھی ہے، کچھ لوگ اسے یونانی طرز کے شاہکار قرار دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ صرف مندر نہیں تھے بلکہ اس کے اردگرد چار دیواری تھی۔ بعض روایات کے مطابق یہ مندروں کا کمپلیکس تھا مگر بعض کے مطابق یہ باقاعدہ قلعہ تھا جس میں یہ عبارت گاہیں تھیں۔ بعض جگہوں پر آپ کو چار دیواری کےبنشانات بھی ملتے ہیں۔ دریائے سندھ کے کنارے ماڑی نام کے دو قصبے آباد ہیں۔ ایک ماڑی انڈس کہلاتا ہے جب کہ دوسرے کو صرف ماڑی یا پرانا ماڑی کہا جاتا ہے اور اس کے ساتھ دریائے سندھ بالکل لگ کر بہتا ہے۔ یہاں نمک کی کانوں کی بہتات ہے۔قدیم تاریخی شہر ماڑی قیامِ پاکستان سے پہلے بہت بڑی تجارتی منڈی ہوا کرتا تھا اور یہاں سے بحری بیڑوں اور جہازوں پر تجارتی مقاصد کے لیے نمک اور دوسری اشیاء دریائے سندھ کے راستے بھیجی جاتی تھیں۔ کالا باغ یہاں سے چودہ کلومیٹر دور ہے یہ اور قدرتی مناظر اور معدنیات سے مالا مال چھوٹا سا پرسکون علاقہ ہے۔ ماڑی انڈس کی پہاڑی پر موجود قلعوں کے احاطے کو ہنومان کا قلعہ کہا جاتا تھا۔ ان مندروں میں تہہ خانے بھی موجود تھے جو دھنس چکے ہیں۔ مؤرخین اور ماہرین کے مطابق یہاں خزانہ بھی موجود تھا جو آج تک کسی کو نہیں ملا۔ ماضی میں مقامی لوگوں نے خزانے کی تلاش میں کھدائی کر کے مندر اور قلعے کا حُسن تباہ کر دیا۔ تقسیمِ ہند سے پہلے یہاں ہندوؤں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ ان کے پرانے مکانات آج بھی شہر میں موجود ہیں۔ ماڑی انڈس کے یہ مندر سنہری رنگ کے پتھروں سے بنے ہوئے تھے جو دھوپ میں سونے کی طرح چمکتے دکھائی دیتے تھے۔ مندوں کی تعمیر میں کنجور کا پتھر استعمال کیا گیا تھا جو بعض روایات کے مطابق خوشحال گڑھ اور بعض کے مطابق اٹک سے کشتیوں کے ذریعے لایا گیا تھا۔ اسی دور میں تعمیر ہونے والی عمارتیں یعنی کٹاس راج اور قلعہ کافر کوٹ میں بھی یہی پتھر استعمال ہوا ہے۔ ان مندروں کا ذکر ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں بھی ملتا ہے۔ مہابھارت کے مرکزی کرداروں پانڈووں نے جب اپنے بھائیوں کوروں سے جوئے میں اپنی سلطنت اور بیوی ہار تھی تو انہوں نے یہیں آ کر پناہ لی تھی۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی روایات میں یہ موجود ہے کہ یہ مندر سینکڑوں سال پہلے ہندوؤں کے دو شاہی خاندانوں کوروں اور پانڈووں کے درمیان ہونے والی جنگ یعنی مہابھارت کے دور کے ہیں۔پاکستان بننے سے پہلے بیساکھی کے دنوں میں ہر سال ماڑی میں ایک میرا لگتا تھا جس میں ہندوستان بھر سے ہندو زائرین شریک ہوتے تھے۔ ممکن ہے کہ آج نظر آنے والے یہ ڈھانچے آنے والے دنوں میں باقی نہ رہیں کیوں کہ اس پہاڑ کے نیچے نمک کی کانوں میں مسلسل کام کرنے کی وجہ سے پہاڑ کھوکے ہوتے جا رہے ہیں اور ان کے گرنے کا عمل بھی جاری ہے۔ان مندوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کسی نے انھیں بہت فرصت سے تراشا ہے۔ صدیاں بیت گئیں یعنی آٹھویں صدی عیسوی سے گیارہویں صدی عیسوی یہ اکیسویں صدی عیسوی یعنی ہزار سال پرانا یہ مندر ہیں تو جب یہ اپنے عروج پر ہوں گے تو تب یہ کتنے خوب صورت لگتے ہوں گے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے ان چیزوں کی قدر نہیں کی۔ کھدائی کرنے کی وجہ سے یعنی اس کی بنیادوں میں لوگوں نے خزانہ تلاش کرنے کی کوشش نے ان مندروں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ یہ دو مندر نہیں تھے بلکہ کئی مندر تھے جن میں سے بیشتر برباد ہو چکے ہیں۔



  تازہ ترین   
ایران کا اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں آپریشن روکنے کا اعلان
امریکا حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا براہ راست ذمہ دار، واشنگٹن اسرائیل کی پشت پناہی بند کرے: ایران
اسرائیل کی ایران کے مختلف شہروں میں بمباری، ماہشہر پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر بھی حملہ
آزاد جموں و کشمیر سے متعلق غیر ضروری اور بے بنیاد بیانات مسترد
بجٹ پر تحفظات دور کرنے کیلئے صدر مملکت اور وزیر اعظم کی ملاقات آج ہوگی
بیروت حملے کا بدلہ، ایران نے اسرائیل پر میزائل برسا دیے: اسرائیل کا جوابی وار، تبریز، اصفہان میں متعدد دھماکے
اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو امریکا حصہ نہیں لے گا: ٹرمپ کا نیتن یاہو کو واضح پیغام
آج رات تہران کو جلنا چاہیے، اسرائیلی وزیر بن گویر کا ایرانی حملوں پر سخت ردعمل





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر