عیدِ غدیر اور عدل و قیادت کا ابدی پیغام

منظر نقوی
عیدِ غدیر جمعرات کے روز نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ یہ دن اسلامی تاریخ کے اس عظیم اور اہم واقعے کی یاد دلاتا ہے جب 18 ذوالحجہ کو غدیرِ خم کے مقام پر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنا جانشین اور امت کا رہبر قرار دیا۔ دنیا بھر میں کروڑوں مسلمان، بالخصوص مکتبِ تشیع سے تعلق رکھنے والے اہلِ ایمان، اس دن کو نہ صرف ایک مذہبی تہوار کے طور پر مناتے ہیں بلکہ اسے عدل، حق، قیادت، انسانی وقار اور اسلامی نظامِ حیات کے بنیادی اصولوں کی تجدید کا دن سمجھتے ہیں۔

غدیرِ خم کا واقعہ اسلامی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ حجۃ الوداع کے بعد جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کے ایک بڑے قافلے کے ہمراہ واپس تشریف لا رہے تھے تو آپؐ نے غدیرِ خم کے مقام پر قیام فرمایا اور ایک تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا۔ اسی موقع پر، شیعہ عقیدے کے مطابق، آپؐ نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنا جانشین اور مومنین کا ولی قرار دیا۔ یہ اعلان محض ایک سیاسی یا انتظامی معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشن کے تسلسل، دینی رہنمائی، اخلاقی قیادت اور عدل پر مبنی حکمرانی کا اعلان تھا۔

غدیرِ خم کا پیغام ہر دور کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ واقعہ امتِ مسلمہ کو یاد دلاتا ہے کہ قیادت طاقت، اقتدار، خاندانی برتری یا ذاتی مفادات کا نام نہیں بلکہ ایک مقدس امانت ہے۔ قیادت کی بنیاد تقویٰ، علم، حکمت، شجاعت، سچائی اور خلقِ خدا کی خدمت پر ہونی چاہیے۔ حضرت علی علیہ السلام کی ذاتِ گرامی علم، شجاعت، حلم، عاجزی اور عدل کی بے مثال تصویر ہے۔ آپؑ کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حکمران کا پہلا فرض کمزوروں کا تحفظ، حق کا دفاع اور عوامی مفاد کو ہر ذاتی یا سیاسی مفاد پر مقدم رکھنا ہے۔

آج کے دور میں غدیر کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ دنیا کے بہت سے معاشرے ناانصافی، غربت، بدعنوانی، عدم مساوات اور اداروں پر کمزور ہوتے ہوئے عوامی اعتماد جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں امام علی علیہ السلام کی سیرت ایک مکمل اخلاقی اور سیاسی رہنما اصول فراہم کرتی ہے۔ آپؑ نے ثابت کیا کہ انصاف کسی طبقے، طاقتور گروہ یا حکمران اشرافیہ کے لیے مخصوص نہیں ہو سکتا۔ انصاف سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ آپؑ کی حکمرانی رحم، مشاورت، سادگی، دیانت اور سخت احتساب پر مبنی تھی۔

اسی تناظر میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا عیدِ غدیر کے موقع پر پیغام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے عیدِ غدیر کی آمد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس عظیم دن کو عدل، جمہوریت اور انسانی وقار پر مبنی حکمرانی کا لازوال مظہر قرار دیا۔ ان کے الفاظ غدیر کے حقیقی مفہوم کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسلامی قیادت کا مرکز و محور عدل، عوامی حقوق اور انسان کی عزت و حرمت ہونا چاہیے۔

صدر پزشکیان نے امام علی علیہ السلام کو عدل، عوام کے ساتھ رواداری اور حق پر ثابت قدمی کی علامت قرار دیا۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے مختلف معاشرے سیاسی، معاشی اور اخلاقی چیلنجز سے گزر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں امام علی علیہ السلام کی تعلیمات ذمہ دارانہ قیادت کے لیے ایک واضح راستہ دکھاتی ہیں۔ آپؑ کی حکمرانی خوف، جبر یا ذاتی اقتدار پر قائم نہیں تھی بلکہ اخلاقی قوت، عوامی اعتماد اور انسانی حقوق کے تحفظ پر استوار تھی۔

صدر پزشکیان نے اپنے پیغام میں ملک کے موجودہ حساس حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غدیر کی تعلیمات اور امام علی علیہ السلام کے راستے کی طرف واپسی موجودہ چیلنجز اور مشکلات سے نکلنے کے لیے ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے۔ یہ بات صرف ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک اہم پیغام رکھتی ہے۔ مسلم معاشرے اس وقت تک حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتے جب تک ان کی بنیاد عدل، اتحاد، دیانت دار قیادت اور عوامی حقوق کے احترام پر نہ رکھی جائے۔

صدر پزشکیان کا یہ کہنا کہ “ملکی امور چلانے میں انسانی وقار کے تحفظ، عوامی مسائل کے حل اور عوامی حقوق کے تحفظ سے بڑھ کر کوئی مفاد نہیں” روحِ غدیر کی مکمل ترجمانی کرتا ہے۔ یہ تمام مسلم حکمرانوں، سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں کے لیے ایک واضح یاد دہانی ہے کہ اقتدار اللہ تعالیٰ اور عوام کے سامنے ایک ذمہ داری ہے۔ حکومت کا اصل مقصد پروٹوکول، طاقت کا اظہار یا اختیار کا استعمال نہیں بلکہ خدمت، انصاف، اخلاقی جرأت اور عوامی فلاح ہے۔

عیدِ غدیر کو صرف تقریبات، اجتماعات، خطابات اور مبارکبادوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اس دن کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ مسلمان حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات کو اپنی انفرادی، اجتماعی اور حکومتی زندگی میں نافذ کرنے کا عہد کریں۔ دیانت داری، مظلوم کی حمایت، معاشرتی برداشت، انسانی عزت کا تحفظ اور ناانصافی کے خلاف ثابت قدمی ہی غدیر کے اصل پیغامات ہیں۔ جو معاشرہ غدیر کو صحیح معنوں میں سمجھتا ہے وہ غربت، امتیاز، استحصال اور اختیارات کے غلط استعمال پر خاموش نہیں رہ سکتا۔

آج مسلم دنیا کو غدیر کے پیغام کی شدید ضرورت ہے۔ اختلافات، فرقہ واریت، ناانصافی، غربت اور سیاسی عدم استحکام نے مسلم معاشروں کو کمزور کیا ہے۔ امام علی علیہ السلام کا راستہ ہمیں اتحاد، اخلاقی قیادت اور عوام دوست نظام کی طرف بلاتا ہے، جہاں شہریوں کے حقوق بلاامتیاز محفوظ ہوں۔ آپؑ کی تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ انصاف صرف قانونی تقاضا نہیں بلکہ ایک دینی، اخلاقی اور روحانی فریضہ ہے۔ یہی انصاف پرامن، مضبوط اور باوقار معاشروں کی بنیاد بنتا ہے۔

جمعرات کو عیدِ غدیر کی تقریبات نے امتِ مسلمہ کو غور و فکر، تجدیدِ عہد اور اصلاحِ احوال کا موقع فراہم کیا۔ غدیرِ خم کا اعلان صرف جانشینی کا اعلان نہیں تھا بلکہ علم، عدل، قربانی اور اخلاقی قیادت کے ذریعے مشنِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تسلسل کا اعلان تھا۔ اس تاریخی دن کو حقیقی خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے راستے کو ذاتی زندگی، عوامی معاملات اور طرزِ حکمرانی میں اپنایا جائے۔

عیدِ غدیر ہر دور کے لیے ایک روشن پیغام ہے کہ قیادت انسانیت کی خدمت کے لیے ہونی چاہیے، اقتدار کو عدل کے تابع رہنا چاہیے اور انسانی وقار کو ہر مفاد سے بلند رکھا جانا چاہیے۔ اس دن کی اصل خوشی صرف یاد منانے میں نہیں بلکہ عمل میں ہے، صرف عقیدت میں نہیں بلکہ اصلاح میں ہے اور صرف الفاظ میں نہیں بلکہ معاشرے میں عدل کے عملی قیام میں ہے۔



  تازہ ترین   
حکومت نے چھوٹے دکانداروں کیلئے فکس ٹیکس سکیم متعارف کرادی
پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کا اہم شراکت دار، علاقائی عدم استحکام چیلنج ہے: امریکی میڈیا
گلگت بلتستان وسائل سے مالامال، 7 جون کے بعد نوجوانوں کو نوکریاں دینگے: بلاول بھٹو
امریکا اور اسرائیل نے اماراتی سرزمین ہمارے خلاف استعمال کی: ایران
وزیر اعظم نے کمرشل کورٹس کے قیام کیلئے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی
ایران سے افزودہ یورینیم معاہدہ کیے بغیر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے: ٹرمپ
موسمیاتی تبدیلی صحت، معیشت اور خوراک کے لیے بڑا خطرہ ہے: صدر و وزیراعظم
خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 4 خوارج جہنم واصل





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر