قانون کمزور کے لیے مراعات اشرافیہ کے لیے

تحریر: محمد نذیر

میرا تعلق بنیادی طور پر روات سے ہے، تاہم گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے برطانیہ میں مقیم ہوں اور شعبہ قانون سے وابستہ ہونے کے باعث مجھے دونوں ممالک کے نظامِ حکمرانی، قانون کی عملداری اور عوامی سہولیات کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ یہی تقابل اکثر مجھے اس سوال پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر وہ بنیادی سہولیات جو ترقی یافتہ ممالک میں ہر شہری کا حق سمجھی جاتی ہیں، پاکستان میں آج بھی عوام کے لیے ایک خواب کیوں ہیں؟ برطانیہ میں صحت، تعلیم، پینے کا صاف پانی، مقامی حکومتوں کی خدمات اور دیگر بنیادی سہولیات کسی حکمران یا سیاسی جماعت کی مہربانی نہیں بلکہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری تصور کی جاتی ہیں۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر عوامی مفاد کے منصوبے سیاسی انتقام یا ذاتی پسند و ناپسند کا شکار نہیں بنتے۔ اس کے برعکس پاکستان میں اکثر ترقیاتی منصوبوں اور عوامی سہولیات کا مستقبل سیاسی ترجیحات کے تابع دکھائی دیتا ہے، جہاں عوامی ضرورت سے زیادہ سیاسی مفاد کو اہمیت دی جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں غربت، مہنگائی اور بے روزگاری سے بھی بڑا مسئلہ وہ دوہرا نظام بن چکا ہے جس نے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایک طرف عام شہری کے لیے قوانین، ضابطے، جرمانے اور سزائیں ہیں جبکہ دوسری طرف سیاسی اشرافیہ، بااثر طبقات اور مقتدر حلقوں کے لیے مراعات، استثنیٰ اور خصوصی رعایتوں کا ایک ایسا نظام قائم ہے جو بظاہر قانون سے بالاتر محسوس ہوتا ہے۔ برسوں سے عوام کو یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، مگر عملی صورتحال اکثر اس دعوے کے برعکس نظر آتی ہے۔ ایک عام شہری معمولی سی خلاف ورزی پر جرمانوں، مقدمات اور سرکاری پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتا ہے جبکہ طاقتور طبقات کے لیے قوانین کی تشریح اور نفاذ کے پیمانے بدل جاتے ہیں۔ یہی دوہرا معیار عوام میں احساسِ محرومی اور نظام سے بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔ پاکستانی سیاست اور طاقت کے مراکز کے درمیان تعلقات کا ایک تلخ پہلو یہ بھی ہے کہ اکثر قومی مفادات کے بجائے باہمی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، سیاسی نعرے تبدیل ہوتے رہتے ہیں، مگر مراعات یافتہ طبقے کے مفادات تقریباً ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں۔ پارلیمنٹ سے لے کر بیوروکریسی اور دیگر طاقتور اداروں تک، مراعات، پروٹوکول، سرکاری گاڑیوں، رہائش گاہوں اور دیگر سہولیات کے لیے وسائل ہمیشہ موجود ہوتے ہیں، لیکن جب بات عوام کو صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف فراہم کرنے کی آتی ہے تو وسائل کی کمی کا جواز پیش کر دیا جاتا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال روات کا ٹی ایچ کیو ہسپتال ہے۔ کئی برس قبل اس کی عمارت تعمیر کی گئی، عوام نے امید باندھی کہ علاقے کے لاکھوں افراد کو علاج معالجے کی بہتر سہولت میسر آئے گی اور انہیں راولپنڈی و اسلام آباد کے ہسپتالوں کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے، مگر افسوس کہ عمارت تو بن گئی لیکن منصوبہ آج تک مکمل طور پر فعال نہ ہو سکا۔ نتیجتاً کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی یہ عمارت رفتہ رفتہ ایک کھنڈر کا منظر پیش کر رہی ہے۔ عوام کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آیا یہ محض انتظامی نااہلی ہے یا وہ سیاسی سوچ جس کے تحت مخالف ادوار میں شروع کیے گئے منصوبوں کو دانستہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس کی سزا کسی سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ ان لاکھوں شہریوں کو دی جا رہی ہے جو اپنے بنیادی حقِ صحت سے محروم ہیں۔ روات میں صحت کے ساتھ ساتھ تعلیم کا شعبہ بھی حکومتی عدم توجہی کی ایک مثال ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافے کے باوجود سرکاری سطح پر تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے، تاہم قابلِ تحسین بات یہ ہے کہ بیرونِ ملک مقیم اہلِ روات، خصوصاً برطانیہ میں آباد پاکستانیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت فنڈ ریزنگ کرکے سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ امر نہ صرف ان کے اپنے علاقے سے محبت کا ثبوت ہے بلکہ اس حقیقت کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر عام شہری اور اوورسیز پاکستانی اپنے محدود وسائل سے تعلیم اور صحت کے منصوبوں کے لیے کردار ادا کر سکتے ہیں تو پھر ریاست، جس کے پاس وسائل، اختیارات اور ادارے موجود ہیں، اپنی بنیادی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کیوں ناکام دکھائی دیتی ہے؟ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں عوام کو بعض اوقات ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے وہ اپنے ہی ٹیکسوں سے چلنے والے نظام کے حق دار نہیں بلکہ خیرات کے محتاج ہوں۔ چند اسکالرشپس، محدود طبی سہولیات یا وقتی ریلیف پیکجز کو عوامی خدمت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ حکمران طبقہ انہی وسائل سے اپنے لیے مزید مراعات اور سہولتیں حاصل کرتا رہتا ہے۔ یہ طرزِ حکمرانی نہ صرف جمہوری اصولوں بلکہ آئین کی روح کے بھی منافی ہے جو شہریوں کے درمیان مساوات، انصاف اور بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ جب ریاستی وسائل کی تقسیم میں امتیاز برتا جائے اور قانون کا اطلاق طبقاتی بنیادوں پر محسوس ہو تو عوام میں مایوسی، بے اعتمادی اور احساسِ محرومی پیدا ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت نعروں، بیانات اور سیاسی الزام تراشیوں سے زیادہ حقیقی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر مکمل کیا جانا چاہیے، صحت اور تعلیم کو سیاسی ہتھیار کے بجائے بنیادی آئینی حق کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے، عوامی نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے مالی معاملات مکمل شفافیت کے تابع ہونے چاہئیں اور احتساب کا نظام طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ ریاست کی کامیابی کا معیار یہ نہیں کہ حکمران کتنی مراعات حاصل کر رہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ایک عام شہری کو انصاف، صحت، تعلیم اور روزگار جیسی بنیادی سہولیات کس حد تک میسر ہیں۔ روات کا ٹی ایچ کیو ہسپتال اور علاقے میں تعلیمی سہولیات کا فقدان درحقیقت پورے نظامِ حکمرانی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ روات کے عوام کسی احسان کے طلبگار نہیں، وہ صرف اپنے آئینی اور قانونی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایک فعال ہسپتال، معیاری تعلیم، صاف پانی اور بنیادی شہری سہولیات کسی بھی مہذب معاشرے میں رعایت نہیں بلکہ شہریوں کا حق ہوتی ہیں۔ جب تک پاکستان میں قانون اور مراعات کے دو الگ الگ نظام قائم رہیں گے، عوامی اعتماد بحال نہیں ہو سکے گا۔ قومیں صرف عمارتوں اور منصوبوں سے نہیں بلکہ انصاف، مساوات اور قانون کی یکساں حکمرانی سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر پاکستان کو واقعی ایک فلاحی اور جمہوری ریاست بننا ہے تو طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ اصولوں کا خاتمہ کرنا ہوگا، بصورت دیگر عوام کی مایوسی بڑھتی رہے گی اور ریاست و شہریوں کے درمیان اعتماد کا خلا مزید گہرا ہوتا چلا جائے گا۔



  تازہ ترین   
بجٹ اجلاس 10 جون کو طلب کرنے کا فیصلہ، سمری ایوان صدر کو موصول
افغانستان سے حملے برداشت نہیں، بھارت دریائے چناب کا رخ نہیں موڑ سکتا: دفتر خارجہ
ٹرمپ کا بڑھتی کشیدگی کے باوجود ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ
امریکا ایران معاہدہ آخری مرحلے میں داخل، منجمد فنڈز پر مذاکرات جاری
اسرائیل کے متعلق ایران کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، ایرانی سپریم لیڈر
ایران جنگ: امریکی ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور
حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان بڑا بریک تھرو، وفاقی بجٹ پیش کرنے پر اتفاق
ایرانی فورسز نے دفاع میں کارروائیاں کیں: وزیر خارجہ عباس عراقچی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر