کراچی کی تاریخی پہچان: ہنی مون لاج (محمدی ٹیکری) اور آغا خان خاندان کا آبائی گھر

تحریر: شاہ ولی اللہ جنیدی

کراچی کے خوشگوار اور پُرفضا علاقے میں واقع ایک تاریخی عمارت، جسے ’’ہنی مون لاج‘‘، ’’بری کلف ہنی مون لاج‘‘ یا ’’محمدی ٹیکری‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، شہر کی ان نادر یادگاروں میں شامل ہے جو نہ صرف کراچی کی نوآبادیاتی تاریخ کی گواہ ہیں بلکہ اسماعیلی برادری اور آغا خان خاندان کے تاریخی ورثے کا بھی اہم حصہ ہیں۔

یہ تاریخی مقام موجودہ کورنگی روڈ پر، مسجدِ طوبیٰ اور نیشنل اسپتال کے قریب ایک بلند پہاڑی پر واقع ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایف ٹی سی بلڈنگ سے قیوم آباد پل تک جانے والی اسی سڑک کا سرکاری نام ’’عباسی شہید روڈ‘‘ ہے، جو 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں جامِ شہادت نوش کرنے والے میجر ضیاء الدین عباسی سے منسوب کیا گیا تھا۔ اگرچہ آج اس نام کا کوئی نمایاں بورڈ دکھائی نہیں دیتا، تاہم سرکاری ریکارڈ اور گوگل میں اس میں اس سڑک کی پہچان ’’عباسی شہید روڈ‘‘ ہے۔

قرین قیاس یہ ہے کہ ہنی مون لاج کی تعمیر دوسری جنگ عظیم کے وقت کی ہے ۔ وسیع و عریض رقبے پر مشتمل یہ محل نما سرکاری عمارت محلِ وقوع اور تعمیراتی حسن کا شاہکار ہے ۔ ابتدا میں یہ عمارت اعلیٰ سرکاری افسران کی رہائش کے لیے استعمال ہوتی رہی ۔ اور 1860ء کے لگ بھگ ایک انگریز ایڈون بری کلف کو فروخت کردی گئی جس کے بعد اس عمارت نے گو ’’بری کلف ہنی مون لاج‘‘ کا نام پا لیا تھا، مگر 1857 کی جنگ کے سبب ہنگامی حالات کی وجہ سے اس کا قبضہ دینے میں تاخیر کی گئی اور یہ عمارت انگریز سرکار کے زیر استعمال رہی ۔

1860 ہی میں ریاست کولہاپور پر انگریزوں کے تکنیکی قبضے کے بعد یہ عمارت راجہ بھوسلے چھترپتی خاندان کے جنگجو راجکمار سمیت کل 733 گرفتار افراد کے لئے زندان ثابت ہوئی – 8 برس کے بعد ان قیدیوں کو اپریل 1868ء میں کلکتہ منتقل کیا گیا جس کے بعد ہی یہ عمارت اس کے اصل مالک کو مل سکی ۔

1876ء میں یہ عمارت اسماعیلی فرقے کے پہلے آغا خان، امام حسن علی شاہ، کے خاندان کو فروخت کر دی گئی اور یوں یہ آغا خان خاندان کی رہائش گاہ بن گئی۔ امام آغا علی شاہ نے بھی اسے اپنی قیام گاہ کے طور پر بھی استعمال کیا۔ اُس زمانے میں اس پہاڑی مقام پر پانی کی فراہمی کا کوئی انتظام موجود نہ تھا۔ چنانچہ روزانہ گدھوں پر پانی کے مشکیزے لائے جاتے تھے۔ بعد کے برسوں میں گارڈن جماعت خانہ کے کنویں سے گھڑوں میں پانی بھر کر یہاں پہنچایا جاتا رہا، جو اس دور کے حالات و وسائل کی ایک دلچسپ جھلک پیش کرتا ہے –

اسی تاریخی گھر میں 25 شوال 1294ھ بمطابق 2 نومبر 1877ء بروز جمعہ سر سلطان محمد شاہ آغا خان سوم کی ولادت ہوئی، جو برصغیر کی سیاسی، تعلیمی اور سماجی تاریخ کے نمایاں کردار ہیں ۔

1882ء میں آغا خان خاندان کے بمبئی منتقل ہونے کے بعد یہ عمارت کراچی آمد کے دوران ان کی عارضی قیام گاہ اور شاہی گیسٹ ہاؤس کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ 1895ء سے 1951ء تک یہ حیثیت برقرار رہی اور اس دوران عمارت میں متعدد تعمیری اور تزئینی تبدیلیاں بھی کی گئیں۔

1953ء میں اس تاریخی عمارت کو ’’مہدی کونوَلیسنٹ ہوم‘‘ (Mehdi Convalescent Home) میں تبدیل کر دیا گیا، جو آغا خان ہیلتھ بورڈ کی نگرانی میں صحت یاب ہونے والے مریضوں کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح 14ستمبر1953کو وزیراعظم محمد علی بوگرا نے کیا۔اس وقت جائیداد کا کل رقبہ 86,495 مربع گز درج تھا۔

ملکیتی ریکارڈ کے مطابق یہ جائیداد اقوامِ متحدہ کے سابق ہائی کمشنر برائے پناہ گزین اور اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان کے چچا شہزادہ صدرالدین آغا خان کو 21 جولائی 1951ء کو رجسٹرڈ گفٹ ڈیڈ نمبر 66 کے تحت منتقل ہوئی، جس کے نتیجے میں وہ اس کے قانونی مالک قرار پائے۔

بعد ازاں، اس جائیداد کی ملکیت اسماعیلی امام پرنس کریم آغا خان چہارم، کو 26 جون 1968ء کو رجسٹرڈ گفٹ ڈیڈ نمبر 5 کے ذریعے بطور تحفہ منتقل کی گئی۔تھی یوں یہ جائیداد آغا خان خاندان کی ملکیتی و انتظامی تاریخ کے ایک اہم باب کے طور پر موجودہ اسماعیلی امام کی تحویل میں آگئی ہے . ہنی مون لاج کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا منفرد محلِ وقوع ہے۔ یہ تاریخی عمارت سڑک کی سطح سے تقریباً 111 فٹ بلند ایک پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہے اور تقریباً 18.5 ایکڑ کے وسیع کنٹور ایریا پر محیط ہے۔ پہاڑی کی چوٹی تک رسائی کے لیے ایک سڑک تعمیر کی گئی تھی جو اس مقام کی قدرتی خوبصورتی اور تاریخی ماحول کو مزید دلکش بناتی ہے۔

اس مرکزی پہاڑی کے قریب 94 فٹ بلند ایک دوسری چھوٹی چوٹی بھی موجود ہے۔ اس چھوٹی پہاڑی کی چوٹی پر ماضی میں لکڑی سے تیار کردہ ایک آٹھ پہلو چھتری نصب تھی، جہاں تک پہنچنے کے لیے سیڑھیاں بنائی گئی تھیں۔ اس مقام سے اُس زمانے میں کراچی شہر، ساحلی علاقوں اور گرد و نواح کے مناظر کا انتہائی دلکش اور وسیع نظارہ کیا جا سکتا تھا، جو اسے تفریح اور آرام کے لیے ایک منفرد جگہ بناتا تھا۔

مرکزی پہاڑی کی چوٹی تقریباً 788.62 مربع گز کے رقبے پر مشتمل ہے، جبکہ مرکزی عمارت، سرونٹ کوارٹرز اور گارڈ کوارٹرز سمیت تعمیر شدہ حصہ 1066.85 مربع گز پر محیط ہے۔ عمارت کی تعمیر میں موسمی حالات اور قدرتی ماحول کو خاص طور پر مدنظر رکھا گیا تھا۔ مرکزی عمارت کا رخ جنوب مغرب کی جانب رکھا گیا تاکہ بحیرہ عرب سے آنے والی سمندری ہوائیں براہِ راست عمارت میں داخل ہو سکیں اور بغیر کسی مصنوعی یا مکینیکل کولنگ سسٹم کے اندرونی حصوں کو ٹھنڈا رکھ سکیں۔ یہ اُس دور کے معماروں کی فطری ماحول سے ہم آہنگ منصوبہ بندی کا ایک شاندار نمونہ ہے۔

ہنی مون لاج کے اطراف کے پہاڑی علاقے کو سرسبز بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً بڑے پیمانے پر شجرکاری بھی کی گئی۔ اس پورے احاطے میں 2500 سے زائد درخت لگائے گئے، جنہوں نے نہ صرف اس مقام کے حسن میں اضافہ کیا بلکہ اسے کراچی کے گرم موسم میں ایک خوشگوار اور پُرفضا مقام میں تبدیل کر دیا۔آج یہ مقام نہ صرف آغا خان خاندان کی تاریخی یادگار ہے بلکہ کراچی کی تہذیبی، مذہبی اور معماری وراثت کا ایک اہم حصہ بھی سمجھا جاتا ہے۔

ہنی مون لاج یا محمدی ٹیکری کراچی کی اُن نادر تاریخی عمارتوں میں شامل ہے جو شہر کے نوآبادیاتی دور، جنگِ آزادی کے اثرات، آغا خان خاندان کی تاریخ اور اسماعیلی برادری کی اجتماعی یادداشت کو یکجا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مقام آج بھی دنیا بھر میں اسماعیلیوں اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔



  تازہ ترین   
وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
اسرائیل خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے لبنانی حدود سے نکل جائے: پاکستان
آئندہ ہفتے ایران سے معاہدہ ہوجائے گا، جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی: ٹرمپ
ٹرمپ کی کوشش بے کار: اسرائیلی وزیراعظم کا لبنان میں حملے جاری رکھنے کا اعلان
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
ووٹ ملے نہ ملے گگلت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا : نواز شریف
امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو پاگل اور ناشکرا قرار دیدیا
وزارتوں اور ڈویژنوں کیلئے ترقیاتی بجٹ 754 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر