دیر البلح(نیشنل ٹائمز)غزہ میں جاری جنگ، بے گھر ہونے اور شدید معاشی بحران نے کم عمر لڑکیوں کی شادیوں میں تشویشناک اضافہ کر دیا ہے ۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ہزاروں خاندان غربت، عدم تحفظ اور مسلسل نقل مکانی کے باعث اپنی نوعمر بیٹیوں کی کم عمری میں شادیاں کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق شوہر اور بڑے بیٹے کی اسرائیلی حملوں میں ہلاکت کے بعد ایک فلسطینی خاتون مجدہ نے اپنی 13 اور 14 سالہ بیٹیوں کی شادی اس امید پر کر دی کہ انہیں تحفظ اور مالی سہارا مل جائے گا، تاہم بعد ازاں دونوں بچیوں کو گھریلو تشدد، استحصال اور سنگین جسمانی و ذہنی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔فلسطینی مرکزی ادارہ شماریات اور غزہ کی سپریم شریعہ عدالت کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 اور 2025 کے دوران رجسٹر ہونے والی شادیوں میں 20 فیصد سے زائد دلہنیں 18 سال سے کم عمر تھیں، جبکہ سینکڑوں لڑکیوں کی عمریں 15 سال سے بھی کم تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی حالات کے باعث غیر رجسٹرڈ شادیوں کی تعداد بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق جنگ نے خاندانوں کو دوبارہ قدامت پسند سماجی رویوں کی طرف دھکیل دیا ہے ، جہاں بعض والدین اپنی بیٹیوں کی حفاظت اور کفالت کے لیے شادی کو واحد حل سمجھتے ہیں۔ تاہم کم عمری کی شادیوں کے نتیجے میں لڑکیاں تعلیم سے محروم ہو رہی ہیں، جبکہ انہیں کم عمری میں حمل، طبی پیچیدگیوں اور تشدد کے بڑھتے ہوئے خطرات کا بھی سامنا ہے ۔طبی ماہرین کے مطابق جنگ کے دوران نوعمر لڑکیوں میں حمل کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے اور غذائی قلت کے باعث زچگی کے دوران پیچیدگیاں مزید سنگین ہو گئی ہیں۔ متعدد متاثرہ لڑکیوں نے بتایا کہ شادی کے بعد انہیں شدید ذہنی دباؤ، تشدد اور غیر محفوظ حالات کا سامنا کرنا پڑا۔سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ نہ صرف انسانی المیے کو گہرا کر رہی ہے بلکہ ایک پوری نسل کے بچپن، تعلیم اور مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔



