جوہانسبرگ (شِنہوا) جنوبی افریقہ کے ایک محقق نے کہا ہے کہ افریقی ممالک سے درآمدات پر چین کی زیرو ٹیرف پالیسی اس کی وسعت اور جنوب-جنوب تعاون کے طویل مدتی عزم کو ظاہر کرتی ہے، جس سے تجارت اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
جنوبی افریقہ کے انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی امور کے سینئر محقق کوبس وین سٹیڈن نے شِنہوا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام چین-افریقہ تعاون فورم (ایف او سی اے سی) کے تحت قائم شدہ لائحہ عمل سے مطابقت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام چین-افریقہ تعاون فورم (ایف او سی اے سی) کے تحت تیار ہونے والے طویل مدتی تعاون کے نظاموں کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے جن میں 2024 کے اجلاس میں زرعی تجارت کے لئے آسان راستے “گرین لینز” کا باقاعدہ نظام بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پالیسی چین کی تجارتی حکمت عملی کو امریکہ کی پالیسی سے واضح طور پر مختلف بناتی ہے۔
زیرو ٹیرف پالیسی چین کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے 53 افریقی ممالک پر لاگو ہوتی ہے اور یہ یکم مئی 2026 سے باضابطہ طور پر نافذ ہوگئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد افریقی ممالک کے لئے منڈیوں تک رسائی کو بڑھانا اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
وین سٹیڈن کی تحقیق افریقہ میں چین کے بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی اور ترقیاتی کردار پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی معاشی ترقی اور عالمی تجارتی نظام میں مزید انضمام کی کوششوں میں افریقی ممالک کے اعتماد میں اضافہ کرسکتی ہے۔
چین کی زیرو ٹیرف پالیسی افریقہ کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری کو تقویت دے رہی ہے، محقق



