تہران (شِنہوا) ایران میں ہزاروں افراد ملک بھر میں ہونے والے بڑی ریلیوں میں سڑکوں پر نکل آئے اور نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے وفاداری کا عہد اور قومی اتحاد کا مظاہرہ کیا۔
یہ ریلیاں اہل تشیع کے آٹھویں امام، امام رضا کے یوم پیدائش کے موقع پر بیک وقت مختلف شہروں میں منعقد ہوئیں۔ یہ اجتماعات مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجے سے رات 9 بجے تک جاری رہے۔
دارالحکومت تہران میں لوگوں نے امام حسین سکوائر سے آزادی سکوائر تک مارچ کیا، اس دوران انہوں نے ایرانی پرچم لہرائے اور سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای، جنہیں فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں شہید کیا گیا تھا اور نئے رہنما کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔
کئی سرکاری شخصیات بھی اس اجتماع میں شریک ہوئیں، جن میں تہران کے میئر علی رضا زکانی اور ایران کی آئینی کونسل کے ترجمان ہادی طاحان نظیف شامل تھے۔
شرکاء نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اور ایران کے اسلامی نظام کی حمایت میں نعرے لگائے اور قومی اتحاد برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
راستے میں ایک یادگاری پویلین بھی قائم کیا گیا تھا، تاکہ ایران کے جنوبی شہر میناب میں ایک سکول پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے پہلے دن شروع ہونے والی 40 روزہ جنگ کے دوران جاں بحق ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے۔
تہران میں ریلی کے دوران ایران کے مقامی طور پر تیار کردہ میزائل خیبر شکن اور ڈرون شاہد 136 بھی نمائش کے لئے پیش کئے گئے۔
ایران میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، نئے سپریم لیڈر کے ساتھ وفاداری کا عزم



