بیجنگ (شِنہوا) چین نے بزرگوں کی نگہداشت کے لئے باہمی امداد پر مبنی خدمات کے فروغ کے لئے ایک پالیسی دستاویز جاری کی ہے۔ چین ملک میں عمر رسیدہ آبادی کے چیلنجز سے نمٹنے اور بزرگ شہریوں کی بڑھتی ہوئی متنوع ضروریات کو پورا کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔
2025 کے اختتام تک چین میں 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد 32 کروڑ سے تجاوز کر چکی تھی جو مجموعی آبادی کا 23 فیصد بنتی ہے۔ توقع ہے کہ اگلے عشرے میں یہ تعداد 40 کروڑ سے بڑھ جائے گی۔ اس کے نتیجے میں بزرگوں کی نگہداشت ایک اہم قومی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
اس رہنما اصول کو وزارت شہری امور سمیت 11 سرکاری محکموں نے مشترکہ طور پر جاری کیا ہے، جس میں بزرگوں کی نگہداشت کے لئے باہمی معاونت پر مبنی خدمات کو رضاکارانہ اور غیر منافع بخش قرار دیا گیا ہے جو دیہات اور کمیونٹیز میں رہنے والے پڑوسیوں یا مکینوں کے درمیان باہمی مدد کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔
دستاویز کے مطابق 2030 تک شہری اور دیہی علاقوں کی کم از کم 70 فیصد کمیونٹیز کو ایسی سہولیات سے لیس کیا جائے گا جو باہمی امداد پر مبنی بزرگوں کی نگہداشت کی خدمات فراہم کر سکیں۔
خصوصی مشکلات کا شکار بزرگ افراد کے لئے باقاعدہ دوروں اور نگہداشت کی خدمات کا ایک ملک گیر نظام بھی مکمل طور پر قائم کیا جائے گا جبکہ ان خدمات کی پائیداری کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا جائے گا۔
چین نے بزرگوں کی نگہداشت کے لئے باہمی معاونت پر مبنی خدمات کا ہدف مقرر کر دیا



