بیجنگ (شِنہوا) چینی مین لینڈ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ قومی خود مختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کو یقینی بنانے کی شرط پر پرامن دوبارہ اتحاد کے بعد تائیوان کے موجودہ سماجی نظام اور طرز زندگی کا مکمل احترام کیا جائے گا۔
ریاستی کونسل کے تائیوان امور دفتر کے ترجمان چھن بن ہوا نے ان خیالات کا اظہار ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک حالیہ سروے کے بارے میں میڈیا کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کیا جس میں سامنے آیا ہے کہ 55.2 فیصد شرکاء کا ماننا ہے کہ تائیوان کے لئے “موجودہ صورتحال برقرار رکھنا” مشکل ہے۔
سروے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ 67.4 فیصد شرکاء اس بات پر فکر مند ہیں کہ اگر آبنائے تائیوان کے آر پار موجودہ صورتحال برقرار نہ رہی تو وہ اپنے موجودہ طرز زندگی اور حقوق سے محروم ہو جائیں گے۔
چھن نے کہا کہ یہ سروے ظاہر کرتا ہے کہ تائیوان میں زیادہ لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ دوبارہ قومی اتحاد کا رجحان ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم 1992 کے اتفاق رائے پر قائم رہنے اور ‘تائیوان کی آزادی’ کی مخالفت کی مشترکہ سیاسی بنیاد پر تائیوان کی تمام سیاسی جماعتوں، شعبوں اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ آبنائے پار کے باہمی تعلقات اور قومی اتحاد پر وسیع اور گہرائی سے مشاورت کے لئے تیار ہیں۔
دوبارہ اتحاد کے بعد تائیوان کے سماجی نظام کا مکمل احترام کیا جائے گا، ترجمان چینی مین لینڈ



