برن، سوئٹزرلینڈ (شِنہوا)سوئس ماہر تعلیم بیٹ شنائیڈر نے کہا ہے کہ چین سب کی خوشحالی کے لئے اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دے رہا ہے۔
مارچ کے آخر میں برن اکیڈمی آف دی آرٹس میں آرٹ اور ڈیزائن ہسٹری کے پروفیسر ایمریٹس شنائیڈر نے برن کے چائنہ کلچرل سنٹر میں ایک لیکچر دیا۔ اس موقع پر انہوں نے سوئس دوستوں اور سوئٹزرلینڈ میں مقیم چینی برادری کے ارکان کے ساتھ چین کے جنوبی شہر شین زین کے اپنے حالیہ دورے کے مشاہدات شیئر کئے اور عصری چین کی اعلیٰ معیاری ترقی کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔
1986 سے چین کی ترقی کا گہرا مشاہدہ کرنے اور برسوں کے دوران کئی چینی شہروں کا دورہ کرنے والے شنائیڈر نے شِنہوا کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ طویل عرصے سے چین کی 5 ہزار سالہ تاریخ کے سحر میں مبتلا رہے ہیں جس کا ذکر انہوں نے اپنے ابتدائی لیکچرز اور تحریروں میں بھی کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے محسوس کیا کہ مغرب میں چین کا عکس اکثر غلط معلومات کی وجہ سے مسخ کر کے پیش کیا جاتا ہے جس نے انہیں ایک زیادہ درست تصویر پیش کرنے کے لئے اپنی پہلی کتاب لکھنے پر آمادہ کیا۔
“جدیدیت کی جانب چین کا طویل سفر: 20 غیر یورو سینٹرک مقالے” کے عنوان سے ان کی کتاب 2022 میں شائع ہوئی۔ شنائیڈر نے کہا کہ جیسے جیسے چین کے بارے میں میری سمجھ بوجھ گہری ہو رہی ہے، چینی حقیقت کے بارے میں میرا ادراک بھی مزید پختہ ہوتا جا رہا ہے۔
ثقافتی مطالعہ کے نقطہ نظر سے شنائیڈر نے اس بات پر زور دیا کہ کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالنے اور ایک معتدل خوشحال معاشرہ تشکیل دینے میں چین کی کامیابی بذات خود “ثقافت” کی ایک شکل ہے۔
شنائیڈر چین کے 5سالہ منصوبوں کو انتہائی اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ان پر موثر طریقے سے عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترقی کے لئے ایک حقیقی اور عملی لائحہ عمل ہے۔
چین کی اعلیٰ معیار کی ترقی سے دنیا مستفید ہو رہی ہے، سوئس ماہر تعلیم



