لیما (شِنہوا) پیرو کے میوزیم ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ قدیم تاریخی میراث کی حامل دو قدیم تہذیبیں پیرو اور چین چنکائی بندرگاہ کی بدولت ثقافتی تبادلوں میں مزید اضافہ دیکھ رہی ہیں۔
پیرو کے آرکیالوجی، اینتھروپولوجی اور تاریخ کے قومی عجائب گھر کے ڈائریکٹر رافیل وارون گابائی نے شِنہوا کو انٹرویو میں بتایا کہ پیرو کے دارالحکومت لیما سے تقریباً 80 کلومیٹر شمال میں واقع اس بندرگاہ کا نومبر 2024 میں افتتاح کیا گیا تھا جس نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سفر اور ثقافتی و تاریخی تعلقات کو مضبوط بنایا ہے۔
وارون نے کہا کہ چنکائی بندرگاہ صرف تجارت اور بحری سفر کے لئے ایک پل نہیں بلکہ اس روٹ پر تبادلے کو بھی آسان بناتی ہے جو بنیادی طور پر چین کی شنگھائی بندرگاہ کو پیرو کی چنکائی بندرگاہ سے ملاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیرو اور چین کے درمیان ثقافتی تبادلوں کی ایک طویل تاریخ ہے اور اب یہ دوبارہ نمایاں طور پر فروغ پا رہے ہیں جس کی وجہ سیاحوں کی بڑھتی ہوئی آمد اور ایک دوسرے کے ثقافتی ورثے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عجائب گھر تعاون کا ایک بہت بڑا موقع فراہم کرتے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان تحقیق، نمائشوں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے مشترکہ منصوبوں کو ممکن بناتے ہیں۔
چین کے اپنے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے وارون نے کہا کہ دورے سے انہیں چین کے اہم ثقافتی اداروں، خصوصاً پیلس میوزیم کے کام کا براہ راست مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔
پیلس میوزیم کے دورے میں انہوں نے قدیم ورثے کے انتہائی باریک بینی سے تحفظ کے عمل کو دیکھا اور اس تجربے کو “ناقابل تصور” قرار دیا۔
ان کے لئے سب سے نمایاں بات یہ تھی کہ جدید ٹیکنالوجی اور روایتی طریقے ساتھ ساتھ استعمال ہو رہے ہیں، جہاں جدید آلات کاریگروں کی ہاتھ سے کی جانے والی محنت میں مدد دے کر قدیم نوادرات کو انتہائی درستگی کے ساتھ بحال کر رہے ہیں۔
وارون کو یقین ہے کہ پیرو اور چین کے درمیان ثقافتی تعلقات کو مضبوط بنانے سے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ مزید مضبوط ہوگی جس کی وجہ ایک دوسرے کے ثقافتی ورثے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور چنکائی بندرگاہ جیسے اقدامات ہیں۔
چنکائی بندرگاہ چین کے ساتھ ثقافتی تبادلوں کو فروغ دے رہی ہے، میوزیم ڈائریکٹر پیرو



