تہران (شِنہوا) ایران کے صدر اور پارلیمنٹ کے سپیکر نے خطے میں کشیدگی میں اضافے اور اندرونی سیاسی اختلافات کی متضاد اطلاعات کے بیچ قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کسی بھی “جارح” کے خلاف جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری مشترکہ بیان میں صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران “سخت گیر” اور “اعتدال پسند” میں کوئی تفریق نہیں کرتا اور یہ کہ “سب ایرانی اور انقلابی ہیں۔”
بیان میں کہا گیا ہے کہ “قوم اور ریاست کے مضبوط اتحاد اور سپریم لیڈر کی اطاعت کے ساتھ ہم جارح کو اپنے اقدامات پر پچھتانے پر مجبور کر دیں گے۔”
پیغام میں “ایک خدا، ایک قوم، ایک رہنما، ایک راستہ” کے تحت اتحاد پر زور دیا گیا ہے جسے “ایران کی کامیابی” کی بنیاد قرار دیا گیا۔ ملک کے دیگر اعلیٰ رہنماؤں نے بھی اتحاد کے حق میں بیانات جاری کئے۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر کے مطابق یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان ریمارکس کے جواب میں سامنے آئے جن میں انہوں نے ایران کی قیادت کو “شدید طور پر منقسم” قرار دیا تھا جبکہ انہوں نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان بھی کیا تھا۔
ایران کی قیادت کا اندرونی اختلافات کے برعکس اتحاد کا مظاہرہ،مزاحمت کا عزم



