بیجنگ (شِنہوا) 2026 کی پہلی سہ ماہی میں چین کی دیہی صنعتوں نے ترقی کی مستحکم رفتار کو برقرار رکھا، جس میں زرعی خوراک کی پروسیسنگ، دیہی سیاحت اور صنعتی انضمام، سب نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
وزارت زراعت و دیہی امور نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ زرعی فوڈ پروسیسنگ کے ان اداروں، جن کی سالانہ آمدنی کم از کم 2 کروڑ یوآن (تقریباً 29 لاکھ 10 ہزار امریکی ڈالر) ہے، کی پیداواری قدر میں جنوری سے مارچ کے عرصے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.8 فیصد اضافہ ہوا۔
تعطیلات کے اخراجات اور تجرباتی سفر کے بڑھتے ہوئے رجحان کی بدولت دیہی تفریح اور سیاحت میں بھرپور وسعت دیکھی گئی۔ دیہی علاقوں میں کھپت کے نئے منظر نامے ابھر رہے ہیں جہاں نوجوان کاروباری افراد کی بڑی تعداد گیسٹ ہاؤسز اور دیہی کیفے قائم کر کے نئے کیریئر کا آغاز کر رہی ہے۔
صنعتی انضمام کا عمل مزید گہرا ہوا ہے۔ حکومت نے اس سال اب تک منفرد خصوصیات کے حامل 40 صنعتی کلسٹرز اور 50 جدید زرعی صنعتی پارکس کے قیام کے ساتھ ساتھ مضبوط زرعی صنعتوں والے 200 قصبوں کی ترقی میں تعاون فراہم کیا ہے۔
مستقبل کے حوالے سے وزارت نے کہا کہ وہ دیہی صنعتوں کو مزید تقویت دینے کے لئے کام کرے گی۔ مقامی برانڈز کی تیاری، معروف اداروں کی ترقی، صنعتی سلسلوں کی توسیع و بہتری، دیہی تجربات پر مبنی نئے کاروباروں کے فروغ اور فنڈنگ و زمین کے استعمال کے ذریعے دیہی کاروبار کے لئے پالیسی معاونت میں اضافے کی بھرپور کوششیں کی جائیں گی۔
سرکاری اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ پہلی سہ ماہی میں دیہی باشندوں کی فی کس قابل تصرف آمدنی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.4 فیصد حقیقی اضافہ ہوا جو شہری آمدنی کی شرح نمو سے 2.2 فیصد زیادہ ہے۔
چین میں پہلی سہ ماہی کے دوران دیہی صنعتوں کی مستحکم ترقی کی رفتار برقرار



