عزیز آباد اور کورنگی کی بستیاں بسانے والا کراچی کا ایک گمنام ہیرو۔ عزیزالحق۔

عارف الحق عارف

اللہ کے کچھ نیک بندے ایسے ہوتے ہیں جو روپے پیسے اور شہرت کے لالچ کے بغیر اپنے ملک، علاقے اور عام لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کرتے ہیں۔ان کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہوتا ہے اور اسی کے لیے اخلاص نیت سے کام کرتے ہیں۔ ان کے کام ہمیشہ یاد گار اور لوگوں کے لیے فیض عام کا ایک خزانہ ہوتے ہیں۔لیکن ایسے لوگ اپنا کام کر کے چپ چاپ گمنامی کی زندگی گزار کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ لوگ اکثر اپنے ان محسنوں کو بھول جاتے ہیں۔اصل میں یہ لوگ پہاڑ کی چوٹی پر جلنے والے چراغ کی طرح ہوتے ہیں۔ یہ ایسے ہیرو ہیں جن کے کاموں کا فائدہ لاکھوں کروڑوں لوگوں اور ان کی آئندہ نسلوں کو ملتا رہتا ہے۔ایسے ہی ایک گمنام ہیرو مولوی عزیز الحق ہیں۔ آج ہم اس گمنام ہیرو کے بارے میں اور ان کے یادگار کاموں کا تعارف کرائیں گے۔عزیز الحق پاکستان کے ایک بڑے عالم دین مولانا احتشام الحق تھانوی کے بڑے بھائی تھے، جو خطیب پاکستان کے نام سے بھی مشہور تھے۔

ہم نے عزیزالحق کا نام ۱۹۶۰ کی دہائی کے وسط میں مولانا احتشام الحق کی تقریروں میں سنا تھا۔اس زمانے میں ہم ہر مکتبہ فکر کے جید علماء کی تقریریں سننے کے شوقین تھے۔ہم کیماڑی میں رہنے کے باوجود جیکب لائنز میں ان کی مسجد میں جمعہ کی نماز اور رمضان میں تراویح پڑھنے جایا کرتے تھے۔ لیکن عزیز الحق صاحب کے بارے میں ان کے نام کے علاوہ اور کچھ نہیں جانتے تھے اور ان کے فلاحی کاموں سے بھی ناواقف تھے۔ان سے ہمارا اصل تعارف حال ہی میں ان کے بیٹے حفیظ الحق سے بات چیت کے دوران ہوا جن سے ہماری تین ہفتے قبل یکم اپریل کو سان فرانسسکو کے قریب بے ایریا کی مشہور اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں اتفاقیہ ملاقات ہوئی۔وہاں “انڈیا-پاکستان دوستی” کے نام سے ایک سیمینار تھا۔ اس میں پاکستان سے سابق وزیر جاوید جبار بھی آئے تھے۔ جاوید جبار کراچی یونیورسٹی کے زمانے سے ہمارے دوست ہیں۔ ہم ان سے ملنے وہاں گئے تھے۔ حفیظ صاحب بھی جاوید جبار کے دوست ہیں اور وہ بھی وہاں آئے ہوئے تھے۔لنچ کے وقفے میں ہم جاوید جبار سے ملے تو حفیظ صاحب بھی ہمارے ساتھ شامل ہوگے۔ہم پہلے ان سے نہیں ملے تھے اور نہ ہی انہیں جانتے تھےمختصر سا رسمی تعارف ہوا اور ہم واپس سیکرامنٹو آگے۔دوسرے دن علم ہوا کہ اس سیمینار میں جاوید جبار کو انڈین لابی کے دباؤ کی وجہ سے تقریر نہیں کرنے دی گئی اور ان کا نام دوسرے دن کے پروگرام سے بھی نکال دیا گیا اور وہ پاکستان واپس چلے گئے۔ہمیں اس کی تفصیل کا علم ہوا تو ہم نے فیس بک پر ایک آرٹیکل لکھا۔ اس میں جاوید جبار سے ملاقات کی کچھ تصویریں بھی تھیں۔ ایک تصویر میں جاوید جبار اور ہمارے بیٹے اعجاز عارف کے ساتھ حفیظ صاحب بھی تھے۔ہمارے ایک دوست تحسین انصاری مشی گن ( امریکہ) میں رہتے ہیں۔ انہوں نے یہ تصویر دیکھ کر فون پر توجہ دلائی کہ تصویر میں موجود حفیظ صاحب ہیں اور وہ ان کی اہلیہ ناظمہ صاحبہ کے ماموں ہیں۔ہم یہ تو جانتے تھے کہ وہ مولانا احتشام الحق کے بھائی عزیز الحق کی نواسی ہیں لیکن ان کے کوئی ماموں بھی ہیں اس کا علم نہیں تھا۔انہوں نے ہمیں حفیظ صاحب کا فون نمبر دیا۔ ہم نے ان سے اس پر رابطہ کیا تو پتا چلا کہ وہ عزیز الحق صاحب کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد کے بارے میں بہت کچھ بتایا۔ہمارے درمیان اور بھی بہت سی باتوں کے بارے تبادلہ خیالات ہوا اور کئی مشترکہ دوستوں کا ذکر بھی رہا۔یہ آرٹیکل ہم نے ان کی دی ہوئی معلومات اور اپنی تحقیق اور یادداشت سے لکھا ہے۔

عزیز الحق تھانوی تھانہ بھون یو پی کے ایک پڑھے لکھے خاندان کے چشم و چراغ تھے۔اس خاندان میں بڑے مشہور علماء گزرے ہیں اس لیے لوگ انہیں مولوی عزیز الحق بھی کہتے تھے۔وہ ۱۹۰۷ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے علی گڑھ سے گریجویشن کی۔ پھر متحدہ ہندوستان میں ۱۹۴۰ میں سرکاری نوکری شروع کی۔وہ وزارتِ تعمیرات ( PWD ) کے محکمے میں کام کرتے رہے۔ اپنی نوکری کا زیادہ وقت انہوں نے وہیں گزارا۔ ایک علمی خاندان سے تعلق کی بنا پر عربی، فارسی اور انگریزی بہت اچھی جانتے تھے۔ اس وجہ سے سرکاری حلقوں میں ان کا بہت نام تھا۔ یہاں تک کہ وائسرائے لارڈ ویول کو بھی ان کی قابلیت کا پتا چل گیا۔ لارڈ ویول نے انہیں ایک خاص کام برطانوی حکومت اور نوابی ریاستوں کے درمیان فارسی معاہدوں کے انگریزی ترجمے کا کام دیا جو عزیز الحق صاحب نے یہ بڑی مہارت سے انجام دیا۔اس کام پر انہیں “خان صاحب” کا خطاب ملا۔

۱۹۴۷ میں پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا تو انہوں نے پاکستان کی حکومت کی ملازمت کا انتخاب کیا اور وزارت تعمیر و ترقی میں کام کرتے رہے۔۱۹۵۹میں ان کا تبادلہ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( کے ڈی اے ) میں کر دیا گیا جہاں ان کا تقرر دوسرے بڑے عہدے ممبر ایڈمنسٹریشن کی حیثیت سے ہوا۔کے ڈی اے میں انہیں عوام کےلئے فلاحی کام کرنے کے بہترین مواقع ملے۔ان بڑے کاموں میں کورنگی ٹاؤن شپ اور عزیز آباد کی ہاؤسنگ اسکیموں کے علاوہ پی ای سی ایچ ایس فاؤنڈیشن کالج کا قیام اور کم آمدنی والے بے گھر افراد کےلئے نجی شعبے میں ورکس ہاؤسنگ سوسائٹی، سہارنپور ہاؤسنگ سوسائٹی اور شاہ ہارون سوسائٹی بھی شامل ہیں۔ان کاموں کا تفصیل سے ذکر آگے آتا ہے۔

عزیزالحق کا جب کے ڈی اے میں تبادلہ ہوا۔ اس وقت پاکستان کو بنے صرف ۱۱ سال ہی ہوئے تھے۔کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ ہندوستان سے آنے والے مہاجروں کی آباد کاریتھا۔ مہاجروں کی آمد ابھی بھی جاری تھی۔ اس وقت تک چھ سے سات لاکھ سے زیادہ مہاجر راجستھان، یوپی اور دوسری جگہوں سے کراچی آ چکے تھے۔ اتنے زیادہ لوگوں کے آنے سے کراچی کی آبادی ایک دم بہت بڑھ گئی۔ اس سے شہر کے سماجی اور سیاسی حالات بھی بدل گئے۔کراچی جھگیوں کا شہر لگنے لگا تھا۔قائد اعظم کا مزار ابھی نہیں بنا تھا۔ اس کے چاروں طرف چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں پر جھگیاں ہی جھگیاں تھیں۔ ہم نے نومبر ۱۹۶۰ میں قائد کے مزار کے ارد گرد یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔حکومت اس زمین کو جھگیوں سے صاف کرنا چاہتی تھی تاکہ مزار بنایا جا سکے۔ حکومت یہ بھی چاہتی تھی کہ جھونپڑیوں میں رہنے والے خاندانوں کو کسی جگہ آباد کیا جائے۔اس وقت ایوب خان کے ساتھی جنرل اعظم خان وزیر تعمیر و ترقی تھے۔ یہ وہی اعظم خان تھے جنہوں نے ۲۶ اکتوبر کی رات صدر اسکندر مرزا سے زبردستی استعفیٰ لے کر انہیں ہٹا دیا تھا۔جنرل ایوب خان نے جنرل اعظم کو دو کام دیے۔ پہلا، قائد کے مزار کے پاس کے علاقے کو صاف کیا جائے اور دوسرا، مہاجروں کو شہر سے باہر کورنگی کی نئی بستی میں بسایا جائے۔ ان کی وزارت نے شہر سے بہت دور کورنگی میں ایک ہاؤسنگ اسکیم بنائی۔ ان میں سے ایک کا نام جنرل اعظم کے نام پر ‘اعظم بستی’ رکھا گیا۔ اس میں ہزاروں گھر بننے تھے۔کراچی کی تعمیر و ترقی کا کام KDA کا تھا۔ اس لیے اس منصوبے کو پورا کرنے کا کام عزیز الحق صاحب کو دیا گیا۔ وہ KDA کے سینئر ممبر ایڈمنسٹریشن تھے۔ انہیں برطانوی دور سے ہی تعمیر کے محکمے PWD کا بہت تجربہ تھا۔

عزیز الحق صاحب نے یہ کام جنرل اعظم کی نگرانی میں مکمل کیا اور دن رات کام کرتے ہوئے اس منصوبے کو صرف ڈیڑھ کروڑ روپے کے قلیل بجٹ اور صرف چھ مہینے کی مختصر مدت میں پورا کر دیا۔ پہلے مرحلے میں ۱۰ ہزار گھر بنے۔ان گھروں کی اتنی جلدی تعمیر میں عزیز الحق صاحب کا سب سے بڑا کردار تھا۔بعد میں کورنگی کے الگ الگ سیکٹروں میں ایک لاکھ سے زیادہ گھر بنے۔ مہاجروں کو ان گھروں میں بسایا گیا۔ اس کامیاب منصوبے کی وجہ سے جنرل اعظم خان مہاجروں میں بہت مقبول ہو گئے۔ ساتھ ہی عزیز الحق صاحب کی محنت اور لگن بھی لوگوں کے دلوں میں بس گئی۔ملکہ برطانیہ الزبتھ نے ۱۹۶۱ میں اپنے شوہرپرنس فلپ چارلس کے ساتھ پاکستان کا دورہ کیا تو پرنس چالس نے کورنگی کا بھی دورہ کیا۔جہاں عزیزالحق نے ان کا استقبال کیا اور ان کو اس کم لاگت کے ہاوسنگ کے منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

اس وقت کراچی شہر بہت چھوٹے رقبے پر تھا۔ اس کی حد لیاری، لالو کھیت، لسبیلہ، گرومندر، عامل کالونی اور گورا قبرستان تک تھی۔ کورنگی کا علاقہ بہت دور تھا۔ملازمت پیشہ لوگوں کو شہر میں آنے میں بڑی دشواریاں تھیں۔ہم خود ۱۹۶۰ سے ۱۹۶۵ تک کیماڑی میں رہتے تھے اور کراچی پورٹ ٹرسٹ میں نوکری کرتے تھے۔ اس وقت ہمارے کچھ ساتھیوں کو کورنگی میں کوارٹر ملے تھے۔ لیکن وہ اتنی دور جانا نہیں چاہتے تھے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ وہ ساتھی ان کوارٹروں کو چند سو روپوں میں بیچنے کی پیشکش کرتے تھے۔ کئی ساتھیوں نے ۸۰ مربع گز کے یہ کوارٹر چند سو روپوں میں خرید بھی لیے تھے۔ ہر کوارٹر میں ایک بیڈ روم، صحن، ایک کچن، ایک باتھ روم اور ایک برآمدہ تھا۔اسی زمانے میں نئی کراچی میں لال کوارٹرز کے نام سے بھی ایک تعمیراتی منصوبہ بنا۔نئی کراچی کا علاقہ بھی بھی شہر سے دوری پر تھا۔ وہاں بھی کوئی جانا نہیں چاہتا تھا اور اس وقت اس کے کوارٹر بھی کوڑیوں کے داموں بک رہے تھے۔

جناب عزیز الحق مہاجروں کی خراب مالی حالت سے باخبر اور اس بارے میں فکر مند رہتے تھے۔ان کی بڑی تعداد لالو کھیت ( لیاقت آباد) بھی رہتی تھی۔لیکن زیادہ تر لوگ دوسری خالی جگہوں پر جھگیوں اور جھونپڑیوں میں رہتے تھے۔ ان کے پاس نہ پختہ چھت تھی، نہ پانی، نہ سیوریج اور نہ بجلی۔عزیز الحق اس وقت کورنگی کا منصوبہ کامیابی سے پورا کر چکے تھے۔ اس لیے ان کے دماغ میں ایک اور سستا ہاؤسنگ منصوبہ بنانے کا خیال آیا۔ وہ چاہتے تھے کہ یہ نیا منصوبہ شہر کے مرکز سے زیادہ دور نہ ہو۔انہوں نے فیڈرل بی ایریا میں زمین کا انتخاب کیا۔۔ یہ زمین لالو کھیت کے ساتھ ملی ہوئی تھی۔ انہوں نے یہاں گھر بنانے کا کام شروع کیا۔ یہ منصوبہ ان کی کوششوں سے بنا تھا،شروع میں اس نام ‘منصورہ’ تھا۔منصورہ سندھ کے ایک پرانے شہر کا نام تھا۔ یہ شہر ۷۵۰ سے ۱۰۰۶ عیسوی تک سندھ میں بنو امیہ اور بنو عباس کی حکومت کا دارالحکومت رہا۔ آج بھی ہالا، سندھ کے پاس منصورہ کے نام سے ایک قصبہ ہے۔ وہاں ایک بڑا تعلیمی ادارہ ہے۔ وہاں سے پڑھنے والے لوگ اپنے نام کے ساتھ فخر سے ‘منصوری’ لکھتے ہیں۔آج عزیز آباد کراچی کا مرکز ہے اور بہت مہنگا علاقہ ہے۔ مہاجروں کے لیے سستے گھروں کا یہ منصوبہ ۱۹۶۳ میں شروع ہوا اور ۱۹۶۵ میں مکمل ہوا۔ وہاں ایک مسجد بھی بنائی گئی۔جس کو ایک مینارہ مسجد کا نام دیا گیا۔ اس مسجد کے سنگ بنیاد کی تختی پر عزیز الحق کا نام لکھا ہے۔وہ جانتے تھے کہ کراچی آنے والے مہاجروں کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ وہ گھر کی زیادہ قیمت نہیں دے سکتے۔ اس لیے انہوں نے ایک نجی کمپنی سے معاہدہ کیا۔ طے ہوا کہ ایک گھر کی قیمت صرف تین ہزار روپے ہوگی۔ گھر ملنے تک اس قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔یہ کمپنی ‘پاک کنسٹرکشن کمپنی’ یعنی PCC تھی۔ عزیز الحق صاحب نے کمپنی کو سستی زمین دی اور شرط رکھی کہ لوگوں سے کم قیمت لی جائے۔ یہ سرکار اور نجی کمپنی کی شراکت کا ایک نیا طریقہ تھا۔عزیز الحق اور کمپنی کو پتا تھا کہ منصوبہ مکمل ہونے پر گھروں کی قیمت بہت بڑھ جائے گی۔ اس لیے انہوں نے معاہدے میں لکھوا لیا کہ الاٹیوں سے صرف تین ہزار ہی لیے جائیں گے۔یہ مکان ۱۲۰ مربع گز پر تھے۔ الاٹی کو صرف ۶۰۰ روپے پیشگی دینے تھے۔ باقی ۲۴۰۰ روپے وہ ۵ سے ۷ سال میں آسان قسطوں میں دے سکتا تھا۔ اس کے لیے حکومت نے قرضے کی سہولت بھی دی تھی۔ ایسا ہی ہوا، حالانکہ قیمت دوگنی ہو گئی تھی۔آج وہ تین ہزار کے گھر تین کروڑ سے بھی زیادہ کے ہیں۔ شروع میں یہ منصوبہ منصورہ اور عزیز آباد دونوں ناموں سے چل رہا تھا۔ لیکن ۱۹۶۹ میں کے ڈی اے نے عزیز الحق صاحب کی خدمات کے اعتراف میں اس کا سرکاری نام ‘عزیز آباد’ رکھ دیا۔ابھی تک یہ علاقہ اسی نام سے کراچی کا ایک مرکزی اور مہنگا علاقہ ہے

عزیز الحق صاحب نے غریبوں کےلئے صرف گھر ہی نہیں بنوائے۔ بل کہ ان کے بچوں کی تعلیم کے لیے بھی بہت کام کیا۔ وہ PECHS کالج اور دوسرے تعلیمی اداروں کے بورڈ کے ممبر رہے۔

سرکاری نوکری سے ۱۹۶۶ میں ریٹائر ہونے کے بعد انہوں نے تعلیم اور فلاح کے کام جاری رکھے۔ ۱۹۶۷ میں مالی وسائل نہ ہونے کے باوجود صرف اپنی عزت اور ساکھ کے بل پر انہوں نے فاؤنڈیشن کالج PECHS بنایا۔ یہ کالج آج بھی چل رہا ہے۔ ہر سال ہزاروں بچے یہاں سے پڑھ کر نکلتے ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے بے گھر لوگوں کے لیے نجی ہاؤسنگ سوسائٹیاں بھی بنائیں۔ ان میں ورکس ہاؤسنگ سوسائٹی، سہارنپور ہاؤسنگ سوسائٹی اور شاہ ہارون سوسائٹی شامل ہیں۔ ان کا مقصد تھا کہ عام لوگوں کو سستے پلاٹ ملیں اور وہ اپنے گھر بنا سکیں۔

پاکستان بننے کے بعد کراچی آنے والے مہاجروں کا یہ خادم اور گمنام ہیرو دسمبر ۱۹۷۵ میں زندگی کی ۶۸ بہاریں گزارنے کے بعد خاموشی سے اس دنیا سے چلا گیا۔ان کی نماز جنازہ ان کے چھوٹے بھائی مولانا احتشام الحق تھانوی نے پڑھائی۔



  تازہ ترین   
پاکستان میں امریکا–ایران مذاکرات 36 سے 72 گھنٹوں میں متوقع، ڈونلڈ ٹرمپ
وزیراعظم سے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی ملاقات، امن کوششوں پر تبادلہ خیال
پاکستان کا مذاکرات کا دوسرا دور یقینی بنانے کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق
ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کی کوئی اہمیت نہیں: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ
بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا فیصلہ کن جواب دیں گے: عطاء اللہ تارڑ
ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کی کوئی اہمیت نہیں: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ
وزیراعظم کا جنگ بندی توسیع کی درخواست قبول کرنے پر ٹرمپ سے اظہار تشکر
جنگ کیلئے تیار، جنگ بندی کے دوران صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: سینٹ کام





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر