جکارتہ (شِنہوا) انڈونیشیا کی جکارتہ-بان ڈونگ ہائی سپیڈ ریلوے نے منگل تک ایک کروڑ 50 لاکھ سے زائد سفری دوروں کو سہولت فراہم کی ہے جو اس کی آپریشنل صلاحیت اور سروس کے معیار میں مسلسل بہتری کی علامت ہے۔ اس ٹرین سروس کو ووش کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ آپریٹر کمپنی پی ٹی کیریتا سیپات انڈونیشیا چائنہ (کے سی آئی سی) کے مطابق چین اور انڈونیشیا کے اشتراک سے تعمیر کردہ اس ریلوے نے ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 26 ہزار 770 مسافروں کو سفری سہولت دی ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ نشستوں پر قبضے کی شرح 99.64 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق مسافروں کے تناسب میں بھی بہتری آ رہی ہے اور غیر ملکی مسافروں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اب تک 7 لاکھ 60 ہزار سے زائد غیر ملکی مسافروں نے اس سروس سے فائدہ اٹھایا ہے جو علاقائی رابطوں اور سیاحت کے فروغ میں اس ریلوے کے بڑھتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ یہ منصوبہ ابتدائی مرحلے سے نکل کر تیز رفتار ترقی کے دور میں داخل ہو چکا ہے اور مجموعی مسافروں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس دوران ٹرانسپورٹ کی کارکردگی، سروس کے معیار اور برانڈ کی شناخت میں بھی واضح بہتری آئی ہے۔ اگرچہ ہائی سپیڈ ریلوے نیٹ ورک کا اثر مسلسل بڑھ رہا ہے لیکن اس سروس نے راستے میں واقع شہروں کے درمیان سفر کا وقت نمایاں طور پر کم کر دیا ہے جس سے علاقائی رابطے اور مربوط ترقی میں اضافہ ہوا ہے۔
جکارتہ-بان ڈونگ ہائی سپیڈ ریلوے کے ذریعے ایک کروڑ 50 لاکھ سے زائد مسافر دورے



