اسلام آباد (شِنہوا) خبر رساں ادارے رائٹرز نے منگل کے روز متعدد ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی اور ایرانی مذاکراتی ٹیمیں مزید بات چیت کے لئے رواں ہفتے کے آخر میں واپس آ سکتی ہیں۔ یہ پیش رفت دونوں فریقین کے درمیان حالیہ مذاکرات کا دور بغیر کسی بڑی کامیابی کے ختم ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔
امریکی حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ امریکہ-ایران مذاکرات کے نئے دور کے لئے اسلام آباد اور جنیوا کو ممکنہ مقامات کے طور پر زیر غور لایا گیا ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام پر تنازع تاحال برقرار ہے۔ واشنگٹن تہران پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی روک دے اور اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہو جائے جبکہ ایران منجمد فنڈز کی واپسی اور وسیع تر پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر دی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے قریب آنے والے کسی بھی ایرانی جہاز کو امریکی افواج “تباہ” کر دیں گی۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان، مصر اور ترکیہ کے ثالث موجودہ جنگ بندی ختم ہونے سے قبل مذاکرات کو بحال کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
امریکی آن لائن خبر رساں ادارے ایکسیوس سے گفتگو کرتے ہوئے ایک علاقائی ذریعے نے بتایا کہ ہم مکمل تعطل کا شکار نہیں ہیں۔ دروازہ ابھی بند نہیں ہوا۔ دونوں فریق سودے بازی کر رہے ہیں۔ یہ ایک بازار کی طرح ہے جہاں بھاؤ تاؤ جاری ہے۔
امریکی اور ایرانی ٹیموں کے درمیان رواں ہفتے کے آخر میں امن مذاکرات کا امکان



