اسلام آباد (شِنہوا) امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں نے ہفتے کے روز اسلام آباد میں اپنی بات چیت کا آغاز کر دیا، جہاں دونوں جانب کے پیغامات مختلف ذرائع سے ایک دوسرے تک پہنچائے جا رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات ہفتے کی دوپہر شروع ہوئے۔ اس سے قبل دونوں فریقین نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جو مشرق وسطیٰ کے بحران کا پرامن حل تلاش کرنے کی کوششوں میں دونوں جانب پیغامات پہنچاتے رہے۔پاکستانی ذرائع کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم نے امریکی وفد سے ملاقات سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ مذاکرات کی پیشگی شرائط پر تبادلہ خیال کیا۔پاکستانی ذرائع کے مطابق ان شرائط میں آبنائے ہرمز سے متعلق امور، ایرانی اثاثوں اور اکاؤنٹس کی بحالی، تعمیر نو کے لئے ادائیگی، فوری طور پر حملوں کا خاتمہ، لبنان سمیت دیگر مقامات پر کارروائیاں روکنا، اور شہری مقاصد کے لئے جوہری توانائی کے استعمال کی اجازت شامل ہیں۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کے دوران شہباز شریف نے دونوں وفود کے تعمیری انداز میں مذاکرات کے عزم کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ بات چیت خطے میں دیرپا امن کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لئے دونوں فریقین کے درمیان پیش رفت میں سہولت کاری کا کردار جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔پاکستان میں ایران کے سفیر نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکہ میزبان ملک کی ثالثی کی کوششوں کا احترام کرتا ہے یا نہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ انہیں اس بات کی پروا نہیں کہ اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے فوجی کارروائی جاری رکھنے کی دھمکی بھی دی۔اہم مذاکرات کے پس منظر میں اسلام آباد میں سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیئے گئے ہیں جبکہ مذاکرات کے مقام تک عوامی رسائی محدود رکھی گئی ہے۔اسلام آباد کا جناح کنونشن سنٹر مقامی اور غیر ملکی صحافیوں سے گونج رہا ہے، جو امریکہ۔ایران کے اس تاریخی امن مذاکرات کی لمحہ بہ لمحہ کوریج میں مصروف ہیں۔ایک الگ پاکستانی ذریعے نے کہا کہ “مذاکراتی عمل کی رفتار توقع سے سست ہے اور یہ اندازے سے زیادہ طویل بھی ہو سکتا ہے۔معزز شخصیات کی اسلام آباد آمد کے بعد پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ جاری تنازع میں شامل تمام فریق تعمیری انداز اپنائیں گے تاکہ پرامن حل کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں کی بات چیت کا آغاز، اسلام آباد مذاکرات سے دیرپا امن کی امید



