بیجنگ (شِنہوا) امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ہفتہ کی صبح شروع ہونے والے ہیں، جو منگل کو اعلان کردہ دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی کے دوران ہوں گے۔ یہ مذاکرات ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی حملوں کے آغاز کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد ہو رہے ہیں۔جنگ بندی کا عالمی برادری نے خیرمقدم کیا ہے تاہم اس کے ساتھ ہی اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات میں پائیدار امن معاہدے کی راہ میں حائل ممکنہ رکاوٹوں پر بھی عالمی توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔28 فروری سے شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل جنگ کے نتیجے میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا، جو دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ اس سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معیشت میں خلل پیدا ہوا۔ایرانی میڈیا کے مطابق لبنان میں اسرائیل کے حالیہ مہلک حملوں کے بعد اس آبنائے سے تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت رک گئی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ یہ حملے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔جنوبی لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے ساتھ اسرائیل کا تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ بدھ کو جنگ بندی کے چند گھنٹے بعد ہی اسرائیل نے لبنان میں اپنی سب سے بڑی اور مہلک کارروائی کی، جس میں 300 سے زائد افراد ہلاک اور 1100 سے زیادہ زخمی ہوئے۔امریکہ اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، تاہم ایران اور پاکستان اس موقف سے اختلاف کرتے ہیں۔ایران کا جوہری پروگرام جو اس تنازع کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے، مذاکرات کے ایجنڈے میں سرفہرست رہے گا۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو سکیورٹی خطرہ قرار دیتے ہیں جبکہ ایران اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ امن معاہدے کے حوالے سے “انتہائی پرامید” ہیں تاہم ماہرین کے مطابق جنگ بندی نازک ہے اور مستقل امن تک پہنچنا مشکل ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام، خلیجی سکیورٹی ڈھانچے اور اسرائیل-حزب اللہ-ایران کشیدگی جیسے بنیادی مسائل تاحال حل طلب ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ معاہدہ تنازع کے مکمل حل کے بجائے دراصل کشیدگی کو محدود کرنے کی کوشش ہے۔دیگر ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ باہمی عدم اعتماد اور مفادات کے ٹکراؤ کے باعث آئندہ ہفتوں میں کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے اور کسی بڑے سفارتی حل کے امکانات محدود ہیں۔
پاکستان میں امریکہ-ایران مذاکرات میں درپیش اہم رکاوٹیں



