بیجنگ (شِنہوا) کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ (سی پی سی) کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری شی جن پھنگ نے جمعہ کی صبح بیجنگ میں چینی کومنتانگ (کے ایم ٹی) پارٹی کی چیئرپرسن چھینگ لی وون سے ملاقات کی ہے۔چھینگ لی وون گزشتہ 10 سال میں کے ایم ٹی کی پہلی چیئرپرسن ہیں جنہوں نے سی پی سی کی مرکزی کمیٹی اور شی جن پھنگ کی دعوت پر وفد کے ہمراہ چینی مین لینڈ کا دورہ کیا ہے۔ یہ وفد بیجنگ آنے سے قبل صوبہ جیانگسو اور شنگھائی کا بھی دورہ کر چکا ہے۔شی جن پھنگ نے کہا کہ سی پی سی اور کے ایم ٹی کے رہنماؤں کی 10 سال بعد ہونے والی یہ ملاقات دونوں جماعتوں اور آبنائے تائیوان کے دونوں اطراف تعلقات کے فروغ کے لئے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ چاہے بین الاقوامی حالات اور آبنائے تائیوان کی صورتحال جیسے بھی بدل جائیں، چینی قوم کی عظیم نشاۃ ثانیہ کا رجحان نہیں بدلے گا اور آبنائے کے دونوں طرف چینی عوام کے ایک دوسرے کے قریب آنے کا رجحان بھی برقرار رہے گا۔شی جن پھنگ نے کہا کہ آبنائے تائیوان کے دونوں طرف کے لوگ امن، استحکام، بہتر تعلقات اور بہتر زندگی کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سی پی سی اور کے ایم ٹی دونوں کی ذمہ داری ہے اور ساتھ مل کر کام کرنے کی ایک بڑی طاقت بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پی سی تمام سیاسی جماعتوں، بشمول کے ایم ٹی اور تائیوان کے مختلف طبقات کے ساتھ مل کر تبادلہ خیال اور مکالمے کو فروغ دینا چاہتی ہے تاکہ تعلقات اور بات چیت کو مضبوط کیا جا سکے، آبنائے تائیوان میں امن کو فروغ دیا جا سکے، لوگوں کی زندگی بہتر بنائی جا سکے اور قومی ترقی کو آگے بڑھایا جا سکے۔ یہ سب 1992 کے اتفاق رائے کو تسلیم کرنے اور “تائیوان کی آزادی” کی مخالفت کی مشترکہ بنیاد پر کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آبنائے کے دونوں طرف شناخت کے درست فہم کے ذریعے مزید قریبی تعلقات قائم کئے جائیں۔شی جن پھنگ نے کہا کہ سماجی نظاموں کے اختلافات علیحدگی کی وجہ نہیں بننے چاہئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ وطن کے تحفظ کے لئے پرامن ترقی کو یقینی بنایا جائے۔ اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ آبنائے کے دونوں اطراف ایک ہی چین کا حصہ ہیں۔شی جن پھنگ نے کہا کہ ہم ہر اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہیں جو آبنائے تائیوان میں پرامن ترقی کے لئے ہو اور ہم ہر ایسی کوشش کی بھرپور حمایت کریں گے جو اس مقصد کو آگے بڑھائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تائیوان کی آزادی آبنائے تائیوان میں امن کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والا عنصر ہے اور اسے نہ برداشت کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی قبول کیا جائے گا۔
آبنائے تائیوان کے دونوں جانب عوام بہتر تعلقات اور خوشحالی چاہتے ہیں، شی جن پھنگ



