اسلام آباد (شِنہوا) پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ جاری سفارتی امن کوششوں میں دوبارہ جارحیت کے خلاف ضمانتوں کے ساتھ جنگ کا مکمل خاتمہ ایران کا سب سے بڑا مطالبہ ہے۔
اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی (ارنا) کے ساتھ ایک انٹرویو میں مقدم نے کہا کہ ایران سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے تاہم اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی بھی مذاکراتی نتیجے کو تنازع کے مستقل حل کو یقینی بنانا چاہیے۔
سفیر نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران کے موقف کو واضح کرتے ہوئے خبردار کیا کہ قابل اعتماد ضمانتوں کے بغیر پیش کی جانے والی تجاویز تنازع کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے میں ناکام رہیں گی اور مزید عدم استحکام کا خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔
یہ ریمارکس ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان امن کی بحالی کے لئے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں جس میں پاکستان دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کی سہولت کاری کے لئے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
مقدم نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تہران اور اسلام آباد کے درمیان متعدد سطح پر جاری رابطے کشیدگی میں کمی اور علاقائی امن کے لئے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
سفیر نے کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور اس کے عوام کی ہمت نے ایران کے موقف کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کو مسلسل فوجی دباؤ کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران سفارت کاری کے لئے پرعزم ہے تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی بامعنی امن عمل کو عارضی جنگ بندی کے بجائے تنازع کے جامع اور دیرپا خاتمے کی طرف لے جانا چاہیے۔
پاکستان میں ایرانی سفیر نے جنگ کا مکمل خاتمہ ایران کا بڑا مطالبہ قرار دے دیا



