چھانگشا (شِنہوا) چین میں تیار کردہ میگاواٹ درجے کے ہائیڈروجن ایندھن سے چلنے والے ٹربوپروپ انجن اے ای پی-100 سے لیس 7.5 ٹن وزنی بغیر پائلٹ کارگو طیارے نے چین کے وسطی صوبے ہونان کے شہر ژوژو کے ایک ہوائی اڈے پر اپنی پہلی آزمائشی پرواز کامیابی سے مکمل کر لی۔
یہ دنیا میں میگاواٹ درجے کے ہائیڈروجن ایندھن سے چلنے والے ٹربوپروپ انجن کی پہلی آزمائشی پرواز ہے۔
انجن کی تیار کنندہ کمپنی ایئرو انجن کارپوریشن آف چائنہ (اے ای سی سی) کے مطابق انجن نے 16 منٹ کی آزمائشی پرواز کے دوران معمول کے مطابق کام کیا اور بہترین حالت میں رہا۔ طیارے نے 220 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے 36 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور 300 میٹر کی بلندی پر پرواز کی۔ تمام طے شدہ فضائی مشقیں مکمل کرنے کے بعد یہ بحفاظت واپس آ گیا۔
اے ای سی سی کے ماہرین کے مطابق اس پہلی کامیاب پرواز سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین نے اب ہائیڈروجن ایندھن سے چلنے والے فضائی انجنوں کے لئے بنیادی پرزوں سے لے کر مکمل انجن کی تیاری تک مکمل تکنیکی سلسلہ قائم کر لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کامیابی ہوا بازی میں ہائیڈروجن توانائی کے صنعتی استعمال کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے گرین ہائیڈروجن کی پیداوار کی لاگت کم ہو رہی ہے، ہائیڈروجن سے چلنے والے فضائی انجن معاشی اور توانائی کے تحفظ کے حوالے سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ توقع ہے کہ یہ ٹیکنالوجی پہلے کم بلندی کی معیشت کے شعبوں، جیسے بغیر پائلٹ فضائی کارگو اور جزائر تک رسد میں استعمال ہوگی اور بعد ازاں علاقائی اور مرکزی فضائی راستوں کے طیاروں تک پھیل جائے گی۔
چین میں ہائیڈروجن سے چلنے والے انجن کے حامل کارگو طیارے کی پہلی آزمائشی پرواز مکمل



