تحریر: انصار مدنی
ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بن چکا ہے کہ ہم لوگوں کو دینِ اسلام کی اصل روح کی طرف بلانے کے بجائے اپنے اپنے مسلک، گروہ اور ذاتی رجحانات کی طرف متوجہ کرنے میں زیادہ سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے حصول کا راستہ دکھاتا ہے، نہ کہ فرقہ واریت اور ذاتی مفادات کی بھول بھلیوں میں الجھنے کا۔
بدقسمتی سے ہم نے دین کو بھی اپنی پسند و ناپسند کا تابع بنا لیا ہے۔ ہم عالمی حالات و واقعات کو بھی اللہ کی رضا کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے اپنی خواہشات اور مفادات کے مطابق پرکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری اجتماعی بصیرت کمزور ہو چکی ہے اور ہم حق و باطل کے درمیان واضح فرق کرنے میں بھی تذبذب کا شکار نظر آتے ہیں۔
تاریخِ اسلام کا ایک نہایت دردناک اور سبق آموز باب واقعہ کربلا ہے، جہاں نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السّلام نے حق، صداقت اور دینِ محمدی کی بقا کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ سن اکسٹھ ہجری میں جب انہوں نے ھل من ناصر ینصرنا یعنی کوئی ہے جو میری مدد کرے؟ کی صدا بلند کی، تو یہ صرف ایک فرد کی پکار نہ تھی بلکہ پوری امت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک کوشش تھی۔ مگر افسوس! اس وقت بھی امت کا ایک بڑا حصہ اپنے ذاتی مفادات، خوف اور دنیاوی آسائشوں میں گم رہا، یہاں تک کہ نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کو تنہا چھوڑ دیا گیا، اور آپ علیہ السلام پر طرح طرح کے بہتان لگائے۔ یعنی نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السّلام کوفیوں کے کہنے پر کربلا پہنچے اور دغا باز کوفیوں نے آپ کو قتل کیا۔
ذرا سوچئے کہ نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السّلام پر کتنا بڑا بہتان ہے، آپ علیہ السلام کی سیرت و کردار سے ناواقف لوگ آج بھی اس طرح کے بہتان لگاتے رہتے ہیں۔
دنیا کا ہر باشعور انسان حضرت امام حسین علیہ السلام کو امام حریت، امام انقلاب، امام عزت مانتا ہے وہ اس لیے کہ حضرت امام حسین علیہ السّلام اٹھائیس رجب کو اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہر سے امت کو جگانے کے لیے نکلے شعبان، رمضان، شوال، ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم الحرام کی دس تاریخ تک “ھل من ناصر ینصرنا” کی صدائیں قریہ قریہ گاؤں گاؤں دیتے رہے پھر احرام باندھ کر حج کے عظیم مناسک میں شامل رہے مگر امت کی بے حسی اور پھر دوران حج قتل کرنے کے سازش کو سمجھنے کے بعد حج کو عمرہ میں تبدیل کرکے محرم الحرام کی دس تاریخ کو کربلا پہنچے اور بے یار ومددگار مارے گئے۔ اور اس وقت کے یزید کے دستر خوان سے مستفیض ہونے والے مسلمانوں نے اس قتل کا الزام کوفہ کے چند اوباشوں پر لگا کر نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السّلام کے اصل قاتلوں کو چھپانے کی کوشش کی مگر رسوا ہوگئے۔اور آج بھی ہرسال دس محرم الحرام کو قاتلین حضرت امام حسین علیہ السّلام کے خلاف احتجاج بلند ہوتا ہے۔
اس اعتبار سے واقعہ کربلا محض ایک تاریخی حادثہ نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے جس میں ہم اپنا آج بھی دیکھ سکتے ہیں۔ آج بھی دنیا کے مختلف خطوں میں مظلوم مسلمانوں کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ خصوصاً فلسطین کے مظلوم عوام اور ایران جیسے ممالک مختلف چیلنجز اور دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی آوازیں کسی نہ کسی شکل میں امتِ مسلمہ کو پکار رہی ہیں، مگر ہم میں سے اکثر اپنی ترجیحات اور مفادات میں الجھے ہوئے ہیں۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہم نے ایک بار پھر تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔ ہم آج بھی حق کا ساتھ دینے کے بجائے طاقتوروں کی خوشنودی حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہم مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے ان پر طرح طرح کے الزامات لگانے میں مصروف عمل ہیں، اور یوں اپنی اخلاقی، دینی و شرعی ذمہ داریوں سے غافل ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوسروں پر الزامات لگانے کے بجائے اپنے اندر جھانکیں، اپنے رویوں کا جائزہ لیں اور یہ طے کریں کہ ہماری وفاداریاں کس کے ساتھ ہیں۔ کیا ہم واقعی اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی چاہتے ہیں یا اپنی خواہشات کو ہی اپنا معبود بنا لیا ہے؟
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دینِ اسلام ہمیں عدل و انصاف، اخوت و بھائی چارے اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا درس دیتا ہے، نہ کہ تعصب، فرقہ واریت اور مفاد پرستی کا۔ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں تمام حقائق کو دیکھنے کے باوجود بھی اگر ہم نے اپنی ترجیحات کو درست نہ کیا تو ہم نعمت خداوندی یعنی مظلوموں کی حمایت و نصرت سے محروم رہیں گے اور کل قیامت کے دن مجرموں کے ساتھ محشور ہوں گے جبکہ تاریخ خود کو دہراتی رہے گی، اور ہم ہر دور میں کسی نہ کسی کربلا کا حصہ بنتے رہیں گے، کبھی خاموش تماشائی بن کر، اور کبھی غلط فہمیوں کا شکار ہو کر۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو پہچاننے، اس پر قائم رہنے اور مظلوم کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔



