ٹوکیو (شِنہوا) جاپانی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ملک میں پہلی بار گراؤنڈ سیلف ڈیفنس فورسز (جی ایس ڈی ایف) کے دو اڈوں پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے جوابی حملے کی صلاحیت کے حامل میزائل نصب کر دئیے گئے ہیں، اس اقدام کی جاپان کے اندر سخت مخالفت کی جا رہی ہے۔
کیوڈو نیوز ایجنسی کے مطابق جاپان کے جنوب مغربی کوماموتو پریفیکچر میں کیمپ کینگن اور وسطی جاپان کے شیزوکا پریفیکچر کے فو جی کیمپ میں ان میزائلوں کی تنصیب ملک کے جنگ مخالف آئین کے تحت طویل عرصے سے قائم صرف دفاع پر مبنی پالیسی میں ایک غیر معمولی تبدیلی کی نشاندہی ہے۔
کیمپ کینگن کو زمین سے داغے جانے والے اپ گریڈ شدہ ٹائپ-12 لینڈ ٹو شپ گائیڈڈ میزائلوں سے لیس کیا گیا ہے، جو تقریباً ایک ہزار کلومیٹر تک پرواز کر سکتا ہے۔ یہ جاپان کی سرحدی حدود سے کہیں زیادہ فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے واضح طور پر جارحانہ صلاحیتوں کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔
دریں اثنا ہائپر ویلاسٹی گلائیڈنگ پروجیکٹائلز کو کیمپ فو جی کے ایک تربیتی یونٹ میں نصب کیا گیا ہے۔ جزائر کے دفاع کے لئے ڈیزائن کئے گئے اس ماڈل کی رینج چند سو کلومیٹر ہے، جبکہ وزارت دفاع اسے تقریباً 2 ہزار کلومیٹر تک لے جانے پر کام کر رہی ہے۔
جاپان کی یاماگوچی یونیورسٹی کے اعزازی پروفیسر آتسوشی کوکیتسو نے شِنہوا کو بتایا کہ اگرچہ حکومت اس صلاحیت کو دفاع مضبوط کرنے کے طور پر پیش کرتی ہے، لیکن یہ واضح طور پر اپنے دفاع کے دائرے سے تجاوز کرتی ہے۔
کیوڈو نیوز کے مطابق منگل کے روز کماموتو میں مقامی رہائشیوں نے کیمپ کینگن کے قریب احتجاج کیا۔انہوں نے ہاتھوں میں کتبے اٹھائے جن پر “تنصیب کی مخالفت” اور “میزائل کی ضرورت نہیں” کے نعرے درج تھے۔
جاپان نے مخالفت کے باوجود طویل فاصلے تک مار کرنے والے جوابی حملے کے میزائل نصب کر دئیے



