وینتیان (شِنہوا) 2021 سے قبل لاؤس کے صوبے لوانگ پرابانگ کے ہت کیپ گاؤں کے دیہاتی دو گھنٹے پیدل چل کر ندی کا پانی جمع کرتے تھے۔ رسد بے قاعدہ تھی، پانی سے پھیلنے والی بیماریاں عام تھیں اور بچوں کو اپنی کلاسیں چھوڑ کر پینے کا پانی تلاش کرنا پڑتا تھا۔ لیکن آج لان کانگ -می کانگ تعاون (ایل ایم سی) فریم ورک کے ایک چھوٹے اور ہدف پر مبنی منصوبے کی بدولت نلکے کے ذریعے پینے کا صاف پانی پانچ منٹ کی مسافت پر دستیاب ہے۔
ایک دیہاتی عہدیدار سو ونہہ نے کہا کہ اب ہمیں صاف پانی دستیاب ہے، بیماریوں میں کمی آئی ہے اور ہمارے طبی اخراجات بھی کم ہو گئے ہیں۔
اس زندگی تبدیل کرنے والی پیشرفت کو ‘‘لان کانگ-می کانگ میٹھا بہار منصوبہ‘‘ کہا جاتا ہے، جس نے کمبوڈیا، لاؤس اور میانمار بھر میں پانی کی فراہمی کے 110 چھوٹے پیمانے کے نظام تعمیر کئے ہیں، جس سے 13 ہزار دیہاتی رہائشی مستفید ہو رہے ہیں۔
یہ اقدام تقریباً ایک ہزار چھوٹے مگر موثر اور عوامی فلاح پر مبنی منصوبوں میں سے ایک ہے، جو چین، میانمار، لاؤس، تھائی لینڈ، کمبوڈیا اور ویتنام کے درمیان علاقائی تعاون کا خاموش مگر طاقتور محرک بن چکے ہیں، چھ ملکی تعاون کا یہ نظام رواں سال لان کانگ-می کانگ تعاون (ایل ایم سی) ویک کے دوران اپنی 10ویں سالگرہ منا رہا ہے۔
ایسے وقت میں جب ایل ایم سی ویک کے پروگرامز پورے خطے میں جاری ہیں، ایک پیغام شیئر کیا جا رہا ہے کہ چھوٹے لیکن موثر منصوبے نہ صرف لان کانگ-می کانگ تعاون میں معاونت فراہم کر رہے ہیں بلکہ وہ اسے برقرار رکھ رہے ہیں اور سفارتی اہداف کو عملی پیشرفت میں تبدیل کر رہے ہیں۔
میانمار میں فصل کی پیداوار کا فضائی جائزہ لینے والا ایک مرکز ڈرونز اور فضائی سروے کے ذریعے کھیتوں میں ہاتھوں سے کئے جانے والے سست اور غلطیوں سے بھرپور کام کی جگہ لے رہا ہے، جس سے نگرانی کے وقت میں نمایاں کمی آئی ہے اور غذائی تحفظ کو مضبوط بنایا گیا ہے۔
دیگر نمایاں پروگرامز میں کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لئے لان کانگ-می کانگ بمپر ہارویسٹ منصوبہ اور موتیا کے مریضوں کی بینائی بحال کرنے کے لئے لان کانگ-می کانگ برائٹ منصوبہ شامل ہیں، جو لوگوں کو تیزی سے اور واضح فوائد فراہم کر رہے ہیں۔
مشترکہ دریا سے آگے تعاون کا بندھن: می کانگ ممالک میں چھوٹے منصوبوں کے بڑے اثرات



