تحریر: سعدیہ نارو
کے ٹو ٹریک پر روانگی سے چند روز قبل ٹیم لیڈر عمیر حسن نے زوم پر ایک گروپ میٹنگ منعقد کی۔ فائنل بریفنگ کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ اسی دوران عمیر نے ایک دل چسپ تجویز پیش کی کہ ہر رکن اپنے شہر سے کوئی میٹھی سوغات ساتھ لائے، جسے ٹریک کے دوران رات کے کھانے کے بعد سب کے ساتھ بانٹا جائے گا۔ قراقرم کے بلند و بالا پہاڑوں اور برف پوش وسعتوں کے بیچ ہر روز ایک نیا میٹھا، واقعی ایک منفرد خیال تھا۔
بریفنگ کے اختتام پر میں گہری سوچ میں ڈوب گئی کہ آخر کیا چیز ساتھ لے جاؤں جو نہ صرف میرے شہر لاہور کی ثقافت سے جڑی ہو اور جولائی کی گرمی میں خراب بھی نہ ہو۔ پہلا خیال خلیفہ کی نان خطائی کا آیا، مگر دل پوری طرح مائل نہ ہو سکا۔ پھر بندو خان کے ٹن پیکڈ گلاب جامن یاد آئے، جنہیں میں نے چند روز قبل مٹھائی خریدتے ہوئے دیکھا تھا۔ یوں لاہور سے روانگی سے ایک روز پہلے میں نے گلاب جامن کے ٹن خرید لیے اور سمٹ ہوٹل سکردو پہنچ کر انہیں اسسٹنٹ گروپ لیڈر نیک اختر کے سپرد کر دیا۔
ٹریک کے دوران ہر کیمپ سائٹ پر دوستوں کی لائی ہوئی سوغاتیں پیش کی جاتی رہیں۔ کہیں تہذیب کے خوش ذائقہ بسکٹ تھے، کہیں خلیفہ کی خستہ نان خطائیاں، تو کہیں خواجہ کا اخروٹی سوہن حلوا اور چکوال کی مشہور پہلوان ریوڑی۔ یہ میٹھے ذائقے اور ان کے ساتھ جڑی ہنسی مذاق سے بھرپور محفلیں، دن بھر کی تھکن کو پل بھر میں تحلیل کر دیتی تھیں۔
بیرونِ ملک سے آئے ممبرز اسد، بابر اور فرحان نے سب ساتھیوں کو انرجی بارز اور انرجی جیلز تحفے میں پیش کیں۔
ٹریک کی تھکان اور مصروفیت میں، میں اپنے لائے ہوئے گلاب جامن یکسر بھول چکی تھی۔ ۲۹ جولائی کو علی کیمپ پر رات کے کھانے اور چائے کے بعد میں کچھ دیر آرام کے لیے لیٹ گئی۔ شام کا اندھیرا آہستہ آہستہ گہرا ہو رہا تھا اور جی جی لا کے لیے روانگی میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔ اچانک خیمے کے باہر سے گائیڈ موسیٰ کی آواز ابھری،
“باجی، گلاب جامن لے لیں۔”
یہ سن کر میں بے اختیار مسکرا دی۔ خیمے کی زپ کھولی، ایک گلاب جامن اٹھایا اور ہنستے ہوئے کہا،
“موسیٰ، اس میٹھے کے لیے کیا خوب دن چنا ہے تم نے۔ جی جی لا جیسے کٹھن مرحلے سے پہلے ایسی بھرپور تواضع تو بنتی ہی ہے۔”
علی کیمپ کی یخ بستہ فضا اور شام کے دھندلکے میں، بندو خان لاہور سے لائے گئے وہ گلاب جامن جب سب ساتھیوں میں تقسیم ہوئے تو ان کی چاشنی اور ذائقے سے کچھ دیر کے لیے اندیشوں کی دھند چھٹ گئی اور ہم سب کے چہرے مسکراہٹوں سے سج گئے۔ یوں عمیر کی تجویز کردہ اس میٹھی روایت نے کےٹو ٹریک پر اجنبیت کو رفاقت اور تھکن کو راحت میں بدل دیا۔



