جنیوا (شِنہوا) ایک چینی مندوب نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں ایران کے ایک سکول پر حملے میں امریکی اور اسرائیلی بربریت کی مذمت کی ہے۔
ایران، چین اور کیوبا کی درخواست پر انسانی حقوق کونسل کے 61 ویں اجلاس میں ایران کے شہر میناب میں واقع شجرہ طیبہ گرلز سکول پر حملوں کے حوالے سے ہنگامی بحث کی گئی۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں میں چین کے مستقل مندوب اور سفیر جیا گوئی دے نے اجلاس میں شرکت کی اور چین کا موقف پیش کیا۔
جیا نے میناب کے سکول پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں 168 معصوم لڑکیوں کی جانیں ضائع ہوئیں، جو انسانی اخلاقیات کی حدوں کو پار کرنے، انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین اس حملے پر شدید صدمے کا شکار ہے، اس کی سخت مذمت کرتا ہے اور متاثرین کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔
جیا نے نشاندہی کی کہ امریکہ اور اسرائیل نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر ایران پر یہ حملہ کیا، جو اس سانحے کی بنیادی وجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے نہ صرف ایرانی رہنماؤں کو قتل کیا اور ایرانی عوام کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی بلکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو بھی بڑھایا اور خطے کے ممالک کو اس تنازع میں گھسیٹ لیا۔
جیا نے کہا کہ تمام ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے اور چین ہر اس عمل کی سخت مذمت کرتا ہے جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرے اور شہریوں اور غیر فوجی تنصیبات کو بلاامتیاز نشانہ بنائے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام حساس مسائل کو طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام فریقین کو امن کے ہر موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے، خلوص نیت کے ساتھ امن عمل شروع کرنا چاہیے، خطے کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے عملی اقدامات کرنے چاہئیں اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو یقینی بنانا چاہیے۔
چین کی ایران کے سکول پر حملے میں امریکی اور اسرائیلی بربریت کی مذمت



