تحریر: عابد حسین قریشی
آج میرے والد مرحوم کی برسی ہے۔ ہر والد اپنی اولاد کا ہیرو ہوتا ہے۔ اولاد کو اس بات کا ادراک اکثر باپ کے چلے جانے کے بعد ہوتا ہے، کہ انکا والد انکے لئے کیا تھا، بلکہ کیا نہیں تھا۔
باپ اپنی اولاد کے لئے شجر سایہ دار تو ہوتا ہی ہے، مگر اسکے ساتھ وہ ایک بہترین دوست، غمگسار، ساتھی، ہمہ وقت ایک چوکس نگہبان، اولاد کی خاطر اپنی خوشیاں قربان کرنے والا، مشکلات و مصائب سے تن تنہا نبرد آزما مجاہد، ایک ان تھک محنت کش، ایک مخلص صلاح کار، اور اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کی خاطر تپش زمانہ میں باد نسیم کا جاں فزا جھونکا ہوتا ہے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے، کہ ہمارے بچپن میں جب بھی کبھی گھر میری والدہ مرحومہ کی میرے والد کے ساتھ کسی بات پر نوک جھونک ہوتی، تو میرے والد مرحوم نے پورے تیقن اور اعتماد سے کہنا کہ بہت جلد اچھے حالات آجائیں گے۔ اس وقت یہ جملہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ اور پھر جب اچھے حالات آئے تو والد صاحب کو دیکھنے کے لئے بہت کم مہلت ملی۔ وہ 28 ماچ 1989 کو 56 سال کی عمر میں ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔
مگر انکے ساتھ گزرا وقت اور انکی خوش مزاجی اور میرے لئے سنہری خواب، یہ سب دل و دماغ کے نہاں خانوں میں پوری طرح تازہ ہیں۔ شاید ہی کوئی دن گزشتہ 37 سالوں میں گزرا ہو، جب انہیں اپنی دعاؤں میں یاد نہ کیا ہو۔ سروس میں آنے کے پہلے سات سال تو وہ زندہ رہے۔ یہ بات باعث اطمینان رہی، کہ اپنی پیشین گوئی کا جزوی حصہ وہ دیکھ سکے کہ اس وقت دوسرے بھائی ابھی اپنے کیریئر بنانے کی تگ و دو میں تھے۔
میں جس ضلع میں بھی سیشن جج رہا، چشم تصور میں اپنے والد کو اپنے ساتھ وہاں موجود پاتا رہا اور یہ گمان کرتا کہ وہ یہیں کہیں سیشن ہاوس کے لان میں گھوم رہے ہیں اور اچھے حالات والی پیشن گوئی پر شاداں و فرحاں ہیں۔
والد کی یاد ایک ایسی کیفیت ہے، کہ اسے الفاظ میں نہ پرویا جا سکتا ہے، نہ بیان کیا جا سکتا ہے۔ بس محسوس کیا جا سکتا ہے، وہ بھی نمناک آنکھوں سے، اور لب پر دعاؤں سے۔ اللہ تعالٰی میرے والد مرحوم سمیت جن دوستوں کے والد وفات پاچکے انکو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے۔ اور جن کے زندہ ہیں، ان سے التماس ہے، اس موقع کو غنیمت جانیں، کہ زندگی میں ہی انکی خدمت کر لیں۔



