لاہور(نیشنل ٹائمز)لاہور ہائیکورٹ نے دیرینہ دشمنی پر دو افراد کے قتل پرسزائے موت کیخلاف اپیلوں پر ملزموں کی سزائے موت کالعدم قراردیکر بری کرنے کا حکم دے دیا ۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس عبہر گل خان نے 20 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ ملزموں کی جانب سے ممبر پاکستان بار کونسل احسن بھون نے دلائل دیئے ۔ ملزم کاشف اور ہارون پر 2019میں پنڈی بھٹیاں میں دو افراد کو قتل کرنے کا مقدمہ درج ہوا۔ ٹرائل کورٹ نے 2022 میں جرم ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی ۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریکارڈ کے مطابق وقوعہ دو گھنٹے تاخیر سے رپورٹ ہوا۔ پراسیکیوشن نے تاخیر پرکوئی مناسب وجوہات نہیں بتائیں ،تاخیر سے ایف آئی آر کا اندراج ، شکوک کو جنم دیتا ہے ۔مقتولین کے پوسٹمارٹم کے وقت میں بھی تضاد پایا گیا ،پراسیکیوشن بغیر شکوک وشبہات کے کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی لہذا عدالت ملزموں کی اپیلیں منظور کر کے فوری رہا کرنے کا حکم دیتی ہے ۔
دو افراد کے قتل پر سزائے موت کالعدم ،ملزموں کو بری کرنیکا حکم



