جنیوا (شِنہوا) ایک ماہر اقتصادیات نے کہا ہے کہ اعلیٰ ٹیکنالوجی پر چین کی توجہ، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز جیسی ابھرتی صنعتوں کی بڑے پیمانے پر ترقی عالمی معاشی نمو کے محرک کے طور پر اس کے کردار کو مزید مستحکم بنائے گی۔
سوئس رے کے چیف اکانومسٹ برائے ایشیا جان ژو نے ایک ورچوئل انٹرویو میں کہا کہ چین کی ملکی معیشت زیادہ جدید اور نفیس ہوتی جا رہی ہے۔
حال ہی میں ختم ہونے والے “دو اجلاسوں” یعنی چین کی اعلیٰ مقننہ اور اعلیٰ سیاسی مشاورتی ادارے کے سالانہ اجلاسوں کے دوران چین نے 2026 کے لئے اقتصادی ترقی کا ہدف 4.5 سے 5 فیصد مقرر کیا، جس کا مقصد نئے پانچ سالہ منصوبے کے لئے ایک اچھا آغاز فراہم کرنا تھا، جو اعلیٰ معیار کی ترقی کے لئے راہ ہموار کرتا ہے اور عالمی معیشت کے لئے ضروری استحکام فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ توقع کی گئی تھی کہ ترقی کے ہدف میں یہ تبدیلی آئے گی اور یہ سمجھ میں آتی ہے کیونکہ دنیا بہت غیر یقینی اور غیر متوقع ہے۔ ژو نے مزید کہا کہ چین کا عالمی ترقی میں کردار کئی سالوں سے قائم ہے – دنیا میں ہر سال ہونے والی اہم ترقی کا ایک بڑا حصہ چین سے آتا ہے۔
چین کی گزشتہ سال کی اقتصادی اور سماجی ترقی پر تبصرہ کرتے ہوئے ژو نے ملک کی لچک اور ماحول دوست ترقی میں مسلسل پیشرفت کو اجاگر کیا۔
چین کی اعلیٰ ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی چین کو عالمی معاشی نمو کا مضبوط محرک بنا رہی ہے، ماہر اقتصادیات



