میلان (شِنہوا) ماحولیاتی پالیسی کے ایک اطالوی ماہر کا کہنا ہے کہ چین کا ماحولیاتی ضابطہ بین الاقوامی مکالمے اور باہمی سیکھنے کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
وینس کی کا فوسکاری یونیورسٹی میں ماحولیاتی ہیومینٹیز کے محقق ڈینیئل برومبل نے شِنہوا کو دیئے گئے ایک تحریری انٹرویو میں کہا کہ اس نئے ضابطے کو ماحولیاتی معاملات کے حوالے سے ایک زیادہ پرعزم اور منظم نقطہ نظر کے آغاز کے طور پر سمجھا جانا چاہیے۔
برومبل نے کہا کہ چین، یورپ اور اقوام متحدہ جیسی بین الاقوامی تنظیموں کے درمیان ضابطہ کاری اور پالیسی سازی کے ذرائع کے تبادلے طویل عرصے سے نتیجہ خیز رہے ہیں۔ اس تناظر میں چین کا ماحولیاتی ضابطہ عالمی برادری کے اندر بات چیت اور ایک دوسرے سے سیکھنے کے نئے مواقع فراہم کرتا ہے۔
برومبل نے کہا کہ اس حوالے سے اس ضابطے میں یقیناً بڑی صلاحیت موجود ہے۔ جغرافیائی سیاسی عدم استحکام اور چھڑی ہوئی جنگوں کے اس دور میں ہمیں عالمی سطح پر اس عزم کی تجدید اور اسے برقرار رکھنے کے ہر موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
برومبل نےمزید کہا کہ چین طویل عرصے سے ماحولیاتی نظم ونسق کو ادارہ جاتی شکل دینے پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر کے ممالک کو اکثر ماحولیاتی نظم ونسق میں یکساں چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں معاشی مفادات، سماجی ضروریات اور ماحولیاتی اہداف کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ حالیہ دہائیوں میں چین میں نافذ کئے گئے ماحولیاتی قوانین اور ضوابط کے وسیع مجموعے کو ایک نظام میں پرونے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
برومبل نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اس ضابطے کی سب سے نمایاں خصوصیات میں سے ایک اس کی وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان کے “تہرے بحران” سے زیادہ مربوط اور منظم طریقے سے نمٹا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مسائل ایک دوسرے سے گہرے جڑے ہوئے ہیں اور ایک جامع قانونی کوڈ کی تشکیل اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
چین کاماحولیاتی ضابطہ باہم سیکھنے اور اتفاق رائے کے فروغ کا موثر ذریعہ ہے، اطالوی ماہر



