لاہور،اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)احتساب عدالت نے نیب کی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور قائد مسلم لیگ (ن)نواز شریف کیخلاف چودھری شوگر ملزکیس کی انکوائری بند کرنے کی درخواست منظور کرلی اور انکوائری بند کرنے کا حکم دے دیا۔دوسری طرف قومی احتساب بیورو (نیب)نے چودھری شوگر مل کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے 4 فروری 2026 کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کی استدعا کر دی ۔تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج رانا محمد عارف نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور نواز شریف کیخلاف شوگر ملز انکوائری بند کرنے کی نیب کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے کہا کہ نیب لاہور نے قانون کے مطابق چودھری شوگر ملز انکوائری بند کی، مریم نواز اپنی 7 کروڑ ضمانت کی رقم واپس لے سکتی ہیں ۔نیب لاہور نے عدالت کو بتایا کہ مریم نواز اورنواز شریف کیخلاف کرپشن شواہد نہیں ہیں۔ نیب پراسیکیوٹر انتخاب عالم جوئیہ نے درخواست کے حق میں دلائل مکمل کئے ۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی جانب سے جاوید ارشد بھٹی ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے ۔نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ چودھری شوگر ملز تفتیش بند ہو چکی،انکوائری بند کرنے کی منظوری دی جائے ،نیب قانون میں ترمیم کے بعد نیب کا دائر اختیار ختم ہونے پر انکوائری بند کی گئی،کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملا تو نئے قانون کے تحت نیب انکوائری جاری نہیں رکھ سکتا ،عدالت عالیہ نے 4 فروری کو انکوائری بند کرنے کی احتساب عدالت سے منظوری لینے کا حکم دیا ، احتساب عدالت کی منظوری کے بعد مریم نواز کی ضمانت کی رقم واپس ملے گی ۔ عدالت نے نیب انکوائری بند کرنے کی درخواست منظور کرلی۔دوسری طرف قومی احتساب بیورو (نیب)نے وفاقی آئینی عدالت میں ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل کے ذریعے دائر درخواست میں مو قف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں چودھری شوگر مل کیس کی تفتیش بند کرنے کے معاملے پر احتساب عدالت سے رجوع کرنے کا حکم دیا تھا، حالانکہ انکوائری کے مرحلے پر کیس واپس لینے کے بعد احتساب عدالت کے پاس کوئی جوڈیشل اختیار باقی نہیں رہتا۔لاہورہائیکورٹ نے مریم نواز کے خلاف انکوائری ختم کرنے کے چیئرمین نیب کے اختیار میں مداخلت اورنیب ترامیم کے سیکشن 31 بی (1)کی غلط تشریح کی، چیئرمین نیب کے پاس ریفرنس دائر کرنے سے پہلے کسی بھی کارروائی کو ختم کرنے کا مکمل قانونی اختیار ہے ، لاہور ہائیکورٹ نے انکوائری ختم کرنے کو احتساب عدالت کی منظوری سے مشروط کرکے قانون کی خلاف ورزی کی ۔نیب نے وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے 4 فروری 2026 کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے ۔
چودھری شوگر ملز کیس : نواز شریف، مریم کیخلاف تحقیقات بند، ہائیکورٹ کا فیصلہ آئینی عدالت چیلنج



