پشاور، لکی مروت، لاہور (نیشنل ٹائمز) خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پولیس موبائل وین پر دہشت گرد حملے میں ایس ایچ او سمیت 7 اہلکار شہید جبکہ ایک اہلکار شدید زخمی ہوگیا ۔ سرچ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے 6 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیاگیا ۔ پولیس کے مطابق لکی مروت میں پولیس سٹیشن شادی خیل کی موبائل وین کے قریب زوردار دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں ایس ایچ او صدر اعظم، ڈرائیور کانسٹیبل شاہ بہرام، کانسٹیبل شاہ خالد، کانسٹیبل حاجی محمد، کانسٹیبل گل زادہ اور کانسٹیبل سخی زادہ شہید ہو گئے جبکہ کانسٹیبل انصاف الدین شدید زخمی ہو گیا جسے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس موبائل کو دہشت گردوں نے آئی ای ڈی بم کے ذریعے نشانہ بنایا۔واقعے کے بعد امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ شہدا کی لاشیں بھی ہسپتال منتقل کر دی گئیں۔دریں اثنا سی ٹی ڈی نے لکی مروت میں تھانہ کمبیلا کی حدود میں آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے 6 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا، ہلاک دہشتگردوں سے اسلحہ،دستی بم،آئی ای ڈی برآمد کی گئی ۔ آئی جی کے پی ذوالفقار حمید نے کہا کہ خوارج کا پیچھا کر کے کیفر کردار تک پہنچائیں گے ،پولیس دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ۔علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے لکی مروت میں پولیس گاڑی پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی اور ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بھی واقعہ کی مذمت کی اور آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کر لی۔لکی مروت میں 7 اہلکاروں کی شہادت کے بعد پولیس نے احتجاج شروع کر دیا، ضلع بھر کی اہم شاہراہیں اور داخلی اور خارجی راستے بند کر دیئے ، جس سے گاڑیوں کی آمد و رفت معطل ہو گئی۔ پولیس امن کمیٹی کے صدر خالد خان کا کہنا ہے کہ شہدا کے خون کا حساب لیا جائے گا اور دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
لکی مروت :پولیس وین پر حملہ،ایس ایچ اوسمیت 7 اہلکار شہید ،6دہشتگرد ہلاک



