دین کیا ہے؟‘ کا جواب کئی طرح سے دیا جا سکتا ہے۔ دین مین بندگی ہے۔ اس کی مختصر وضاحت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ انسان اس دنیا میں اپنی مرضی سے نہیں آیا نہ ہی اپنی مرضی سے جائے گا۔ اور نہ ہی انسان کی زندگی موت پر مکمل ہو جاتی ہے۔ بلکہ موت کے بعد ایک نئی اور لامتناہی زندگی شروع ہو جاتی ہے جس میں اس دنیوی زندگی کے عقیدہ و عمل کا مکمل حساب دینا ہو گا ۔ انسان اور یہ کائنات دونوں اللہ کی مخلوق ہیں۔ اللہ اور اس کی مخلوقات میں ایک ہی تعلق ہے اور وہ ہے معبود اور عبد کا ۔ عبد کہتے ہیں ایسی ذات کو جو اپنے خالق و مالک سے انتہائی محبت اور خوف کے دوہرے رشتے میں بندھا ہو جو اپنے مالک کی پرستش کے لیے ہر دم آمادہ ہو۔ عبادت کا جو ہر (essence) پرستش ہے جو کچھ داخلی احوال پیدا کرتی ہے مثلاً محبت خشیت (apprehension and fear) اخبات (humbleness تضرع (humility) وغیرہ ۔اسی عبادت کا مظہر ہے رضا صبر، شکر، توکل (turst and reliance on Allah) وغیرہ۔ جب یہ پرستش انسان کے خارج میں ظہور کرتی ہے تو نماز دعا ذکر قربانی وغیرہ میں ڈھلتی ہے۔ انسان چونکہ ایک معاشرتی وجود ہے اس لیے دین انسان کو اپنے ابنائے جنس (fellow humans) کے ساتھ متعلق رکھنے کے لیے تفصیلی ہدایات دیتا ہے۔ انسانوں کا تعلق دوسرے انسانوں سے کیا ہے؟ اس کا اجمالی جواب ہے خیر خواہی ۔ ہمیں ہر ایک سے خیر خواہی کا حکم ہے چاہے وہ اپنا ہو یا پر ایا۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی جان، مال اور آبرو حرام ہے۔ فرد کو دوسرے فرد کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کرنا ہے؟ فرد اور سماج کے میل جول سے جو معاشرتی رشتے وجود میں آتے ہیں ان کی نوعیت کیا ہونی چاہیے؟ فرد کو اپنی معاش کے حصول میں کن چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟ فرد جب ریاست کو چلانے والا یا اس کا شہری ہوتا ہے اس میں اسے کن باتوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے؟ دین ان تمام امور میں کہیں اجمالی اور کہیں تفصیلی رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ دوسرے الفاظ میں کہیں تو انسانی زندگی کے تین دائرے ہیں، انفرادی معاشرتی اور ریاستی ۔ یعنی فرڈ سماج اور ریاست۔ دین ہر معاملے میں فیصلہ کن امر (order) ہے۔ گویا دین ایک ایسا امر جامع (profound order) ہے جو انسانی زندگی کے ہر گوشے پر اپنی حکومت چاہتا ہے۔ اس ساری بات کو اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ دین نام ہے اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو عبادت کی اساس پر استوار کرنے اور اللہ کی مخلوقات کے ساتھ خیر خواہی کی بنیاد پر اپنے تعلق کو مضبوط کرنے کا۔ دین کا خلاصہ ذوق عبادت اور حسن معاشرت ہے۔ روایتی انداز میں دین کی تقسیم اس طرح کی جاتی ہے کہ دین تین چیزوں کے مجموعے کا نام ہے: عقائد عبادات اور اخلاق۔ دوسرے الفاظ میں ایمانیات مراسم عبودیت (modes of worship) اور انسان کا دوسروں کے ساتھ پورا برتاؤ (conduct) دین کے بنیادی اجزاء ہیں۔
دین کیا ہے؟ (سراسر خیرخواہی)



