سہیل ظفر چھٹہ پنجاب کا محمد بن قاسم !

تاثرات: مظہر طفیل

پنجاب کی سرزمین صدیوں سے غیرت، حمیت اور عدل و انصاف کی علامت رہی ہے۔ یہی دھرتی کبھی ظلم کے خلاف ڈٹ جانے والوں کو جنم دیتی رہی اور کبھی مظلوم کی آہ پر تڑپ اٹھتی رہی۔ مگر آج اسی دھرتی پر جب کوئی معصوم بیٹی ظلم کا شکار ہوتی ہے، اس کی عزت پامال کی جاتی ہے، اسے بلیک میل کیا جاتا ہے اور بالآخر وہ بے بسی کے عالم میں اپنی جان قربان کر دیتی ہے تو ہر باشعور انسان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔

قصور کے علاقے الہ آباد میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ایک درندہ صفت نوجوان عامر شمشاد نے نہ صرف اپنے ہمسائے کی کمسن بیٹی کی عصمت دری کی بلکہ اس کی ویڈیو بنا کر اسے مسلسل بلیک میل کرتا رہا۔ کبھی پیسوں کا مطالبہ، کبھی زیورات کی طلب، اور جب بات حد سے بڑھ گئی تو چار لاکھ روپے کا تقاضا۔ یہ صرف جرم نہیں تھا بلکہ انسانیت کی تذلیل تھی۔

جب بچی نے ہمت کر کے سچ اپنی ماں کو بتایا تو والدین انصاف کی امید لے کر مجرم کے گھر پہنچے۔ مگر وہاں سے بھی تکبر، دھمکی اور بے حسی کے سوا کچھ نہ ملا۔ یہ رویہ اس معاشرتی زوال کی عکاسی کرتا ہے جہاں طاقت اور غرور کو قانون سے بالاتر سمجھ لیا جاتا ہے۔ بالآخر وہ معصوم جان، جو انصاف کی امید میں تھی، خود کو بے یار و مددگار محسوس کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئی۔

یہ سوال صرف عامر شمشاد کا نہیں بلکہ اس پورے نظام کا ہے جس میں ایک مظلوم خاندان کو تھانے کے دروازے پر بھی بے بسی کا سامنا کرنا پڑے۔ اگر پولیس اپنا کردار بروقت اور دیانت داری سے ادا کرے تو شاید کئی سانحات جنم لینے سے پہلے ہی رک جائیں۔ مگر جب قانون کے رکھوالے ہی سستی یا مصلحت کا شکار ہوں تو مجرموں کے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں۔

ایسے حالات میں پنجاب کی عوام کی نظریں حکومت کی جانب اٹھتی ہیں، خصوصاً وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی طرف، جنہوں نے بارہا کہا کہ خواتین کا تحفظ ان کی سرخ لکیر ہے۔ اگر یہ سرخ لکیر واقعی قائم رکھنی ہے تو ایسے واقعات میں فوری اور بے رحم احتساب ناگزیر ہے۔ صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات ہی اعتماد بحال کرتے ہیں۔

اسی تناظر میں محکمہ جرائم کی بیخ کنی کے لیے قائم ادارہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ادارے نے حالیہ عرصے میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف تیز رفتار کارروائیاں کر کے یہ تاثر دیا ہے کہ ریاست کمزور نہیں۔ اگر اس کیس کو بھی پوری سنجیدگی سے سنبھالا جائے، شواہد کی بنیاد پر مضبوط مقدمہ قائم کیا جائے اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دلائی جائے تو یہ نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورے صوبے کے لیے انصاف کی مثال بن سکتا ہے۔

اس محکمے کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کے بارے میں مختلف آراء ضرور پائی جاتی ہیں، تنقید بھی ہوتی ہے، مگر یہ حقیقت ہے کہ جرائم کے خلاف سخت کارروائی نے خوف کی فضا کو کسی حد تک بدلنا شروع کیا ہے۔ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں جہاں سیاسی اثر و رسوخ، دولت کی طاقت اور خاندانی دباؤ اکثر قانون کی راہ میں رکاوٹ بنتے رہے، وہاں سخت اور غیر جانبدار اقدامات کی ضرورت ہمیشہ سے محسوس کی جاتی رہی ہے۔

تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب سندھ کی دھرتی پر ظلم کی داستانیں رقم ہو رہی تھیں تو محمد بن قاسم انصاف کا پرچم لے کر آئے تھے۔ آج پنجاب کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں بھی یہی امید رکھتی ہیں کہ ریاست کا ہر ذمہ دار افسر اسی جرات اور دیانت کا مظاہرہ کرے گا۔ یہ تشبیہ کسی شخصیت پرستی کے لیے نہیں بلکہ اس عزم کی علامت ہے کہ ظلم کو کسی صورت برداشت نہ کیا جائے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ عامر شمشاد اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف قرار واقعی کارروائی ہو، اور اگر کسی سرکاری اہلکار نے کوتاہی برتی ہے تو اس کا بھی سخت احتساب کیا جائے۔ متعلقہ تھانے کے افسران کے کردار کی غیر جانبدارانہ جانچ کی جائے۔ کیونکہ جب تک احتساب کا دائرہ وسیع نہیں ہوگا، اصلاح کا عمل مکمل نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارا عدالتی نظام طویل تاخیر کا شکار رہا ہے۔ غریب خاندان برسوں انصاف کے انتظار میں در در کی ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں۔ ایسے میں اگر تفتیش مضبوط ہو اور مقدمہ مضبوط بنیادوں پر عدالت میں پیش کیا جائے تو انصاف کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری صرف گرفتاری تک محدود نہیں بلکہ سزا تک پہنچانا بھی اس کا فرض ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے یہ لمحہ آزمائش ہے۔ اگر وہ واقعی خواتین کے تحفظ کو اپنی سرخ لکیر سمجھتی ہیں تو اس کیس کو مثال بنانا ہوگا۔ پنجاب کی بیٹیاں یہ محسوس کریں کہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے، نہ کہ وہ تنہا ہیں۔

پنجاب کی گلیوں اور محلوں میں پھیلتا ہوا یہ زہر اسی وقت ختم ہوگا جب ہر مجرم کو یہ پیغام ملے کہ جرم کی قیمت صرف رسوائی نہیں بلکہ عبرتناک سزا ہے۔ کوئی اثر و رسوخ قانون کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتا۔

پنجاب کی بیٹیاں انصاف کی منتظر ہیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو نہیں، امید ہونی چاہیے — اور یہ امید اسی وقت زندہ رہ سکتی ہے جب ریاست اپنے وعدے کو نبھائے اور ہر مظلوم کو یہ یقین دلائے کہ وہ تنہا نہیں۔



  تازہ ترین   
پاکستان کا آپریشن غضب للحق، افغان طالبان رجیم کے 30 اہلکار ہلاک
ژوب میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 10 خوارج جہنم واصل
چمن: گھر میں گیس سلنڈر دھماکا، بچوں اور خواتین سمیت 8 افراد جاں بحق
ملک بھر کیلئے بجلی مہنگی ہونے کا امکان، نیپرا میں سماعت مکمل
بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، طالبان کے بیانات افسوسناک ہیں: دفتر خارجہ
آئی ایم ایف کا یو اے ای سے دو ارب ڈالر ایک سال کیلئے رول اوور کرانے کا مطالبہ
پاکستان، اٹلی، سپین اور یونان کا غیر قانونی امیگریشن کیخلاف مشترکہ پالیسی پر اتفاق
پی ٹی آئی کے سامنے بانی کے علاوہ سب بے معنی ہے: خواجہ آصف





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر