تحریر: عابد حسین قریشی
نعت گوئی اور نعت خوانی کی تاریخ پر نظر دوڑاتے بہت ہی اعلٰی پائے کی نعتیں نظر سے گزریں، اور دل کے دریچے کھولتے ہوئے عجب وارفتگی کا سماں باندھ گیئں۔ عشق مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مسلمان کی رگ رگ میں سمایا ہے، مگر اس عشق کو بیان کرنے کا ہر کسی کا اپنا رنگ اور انگ ہے۔ احمد ندیم قاسمی تو عشاقان مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ سے واپسی کو بھی خامئ ایمان گردانتے ہیں۔
یہ کہیں خامی ایمان ہی نہ ہو
میں مدینہ سے پلٹ آیا ہوں
اس عشق مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کمال یہ ہے، کہ شنوائی اور داد رسی کے لئے جب بندہ کلی طور پر در مصطفٰی سے لو لگاتا ہے، تو اسکی حالت یوں ہوتی ہے۔
اگر آپ نہ کریں گے، تو کرم کون کرے گا
اگر آپ نہ سنیں گے، تو میری کون سنے گا
ان تمام شعرا کرام، نعت خوانوں اور ان نعتوں کا کسی ایک آرٹیکل یا کالم میں احاطہ کرنا ممکن نہ ہے، اور یہ کام تو کئی ضخیم کتب لکھنے سے بھی شاید تشنہ تکمیل رہے۔ اسلئے اپنے اس خوبصورت و دلنشیں موضوع کے دوسرے حصے کو صرف ان نعتوں کی حد تک بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جن میں سرور کائنات، نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روز محشر کسی نہ کسی حوالہ سے شفاعت کا ذکر ہے۔
بطور مسلمان روز محشر ہمارے ایمان کا شفاعت مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم لازمی جزو ہے۔ اللہ کی کتاب بھی بار بار کہہ رہی ہے، کہ اس روز کسی کو بولنے یا سفارش کرنے کی اجازت نہ ہوگی، ماسوائے اسے جسکو اللہ تعالٰی اجازت دیں۔ بات بڑی سادہ سی ہے، کہ اگر روز محشر ہمارے پیارے نبی محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بات یا سفارش کرنے کی اجازت نہیں ملنی تو پھر کس کو ملنی ہے؟؟۔
اسی خیال پر محمد علی ظہوری نے کیا سماں باندھا ہے۔
کیا گھڑی ہوگی محشر میں سب انبیاء
امتوں کو نہ دیں گے کوئی آسرا
ہوگی سب کی زبان پر یہی اک صدا
مصطفٰی کے سوا کوئی چارہ نہیں
محمد علی ظہوری کی ایک اور نعت کا یہ شعر بھی کمال کا ہے۔
عرشی بھی سوالی ہیں، فرشی بھی سوالی ہیں
ملتی ہے، شفاعت کی خیرات مدینے میں
اور پھر محسن نقوی نے اپنی مشہور زمانہ نعت الہام کی رم جھم میں کیا مقطع لکھ دیا۔
بخشش تیری آنکھوں کی طرف دیکھ رہی ہے
محسن تیرے دربار میں چپ چاپ کھڑا ہے
حالانکہ سرکار کے روضہ پر خاموشی سے کھڑے رہنے کے سوا چارہ بھی کیا ہے۔
سرکار کا روضہ ہے، چپ چاپ کھڑے رہنا
جب تک نہ ملے معافی قدموں میں پڑے رہنا
پیر عتیق الرحمن نقشبندی کا یہ شعر بھی قابل غور ہے۔
محشر میں ہو نصیب شفاعت رسول کی
ہر دم میری زباں پہ ہو مدحت رسول کی
کونسا مسلمان یا مومن آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کا خواہش مند نہیں۔ وہی تو ہماری آخری امید ہیں کہ جب نامہ اعمال ہمارا ساتھ نہ دے رہا ہو تو پھر آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ التفات ہی تو ہم گنہگاروں کا سہارا ہوگی۔
ہم میں سے کون ہے، جو یہ دعوٰی کر سکتا ہے، کہ وہ روز محشر اپنے اعمال کی بدولت بخشا جائے گا۔ وہاں تو صرف اللہ کی رحمت، فضل، کرم اور شفاعت مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہماری امیدوں کا سہارا ہوں گے۔
اسی شفاعت کے تصور پر خالد محمود خالد نے کیا خوب کہا ہے۔
اپنے دامان شفاعت میں چھپائے رکھنا
میرے سرکار میری بات بنائے رکھنا
لوگ تو صرف نسبت رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں، اور جگر مراد آبادی بھی یوں کہنے میں فخر محسوس کر رہا ہے کہ۔
اک رند ہے اور مدحت سلطان مدینہ
ہاں کوئی نظر رحمت سلطان مدینہ
کچھ اور نہیں کام جگر مجھ کو کسی سے
کافی ہے، بس ایک نسبت سلطان مدینہ
معروف نعت گو شاعر حفیظ تائب نے اسی مضمون کو اپنے انداز میں پیش کیا ہے۔
محشر کی گھڑی میں ہے، آپ کی ہی امید
شفاعت کی خیرات دے دیجئیے حضور
اور پھر پیر نصیر الدین نصیر نے تو شفاعت کی تان کہاں تک کھینچی۔
بن جائے گی محشر میں نصیر اب تیری بگڑی
سرکار شفاعت کے لئے آئے ہوئے ہیں
یہ موضوع اتنا وسیع، اتنا جامع اور اتنا دلوں کی تسکین اور روح کی بالیدگی کا سامان لئے ہوئے ہے، کہ ایک سے بڑھ کر ایک شعر اور نعت اسی شفاعت رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ پر لکھے گئے اور لکھے جاتے رہیں گے۔
یہ خاکسار کوئی باقاعدہ شاعر نہ ہے، مگر غلام مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کے ناطے شفاعت مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امیدوار اور سائل ہے۔ ایک نعت اپنی کتاب عجز عاجزانہ کے لئے لکھی، اس میں شفاعت مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ ہی عرض کرکے دل کا قرار پایا کہ۔
یوم محشر ہم گنہگاروں کی بخشش اور نجات
آپ ہی کے دم سے ہوگی، اے سراپا التفات
دامن امید ہوگا، حشر میں عابد انکی طرف
ہم گنہگاروں کی ان کے لطف سے ہوگی نجات



