یہ ایک تلخ ترین حقیقت ہے کہ پاکستان نے جس افغانستان کا ہر مشکل وقت میں اعلانیہ ساتھ دیا وہی احسان فراموش ملک پاکستان کے بدترین دشمن ممالک کی ہر دہشت گردی کا سب سے بڑا سہولت کار ثابت ہوا ہے۔ آج ہر خاص و عام کی زبان پر یہ تکلیف دہ سچائی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں افغان حکومت اور بھارت کی پراکسی جنگ کا نتیجہ ہیں۔ جس کے ردعمل میں پاکستان کی طرف سے آہنی جواب اور سخت ترین موقف کے بعد بھارتی آشیر باد کے ساتھ آنکھیں دکھانے والے افغانستان کی طرف سے دہشت گردی کی کاروائیوں میں زیادتی کا امکان ہے۔
گذشتہ دنوں پاکستان کی طرف سے افغانستان کی سرزپاکستان استعمال کرنے والے دہشت گردوں کے ٹھکانے پر فضائی حملوں کے بعد افغان فورسز کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ جبکہ افغان حکومت کے عہدیداروں کی طرف سے چوبیس گھنٹوں میں پشاور اور کوئٹہ فتح کرنے کے مسخرانہ دھمکی آمیز ” نابالغ” بیانات پر دنیا ہنس رہی ہے۔
جبکہ پاکستان نے اقوام عالم کو بتا دیا ہے کہ جب تک کابل امن کیلئے مخلصانہ کوششوں کی ضمانت نہیں دیتا پاکستان افغانستان میں موجود دہشت گردوں کیخلاف سخت ترین زمینی اور فضائی کارروائیاں کرتا رہے گا۔ افغان سرزمین استعمال کرنے والے ہر بھارتی پراکسی دہشت گرد اور سہولت کاروں کا افغانستان کے اندر تک خونناک تعاقب کیا جائے گا۔ چوبیس گھنٹوں میں پشاور اور کوئٹہ فتح کرنے کی دھمکیاں دینے والوں کو کابل کے چوراہوں پر لٹکا دیا جائے گا
یہ حقائق ساری دنیا کے سامنے ہیں کہ جب سے افغان طالبان کے ہاتھوں میں اقتدار آیا ہے ، پاکستان میں خود کش دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ایک عالمی سکیورٹی تنظیمون کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت سے قبل دو سالوں میں پاکستان میں بالترتیب دہشت گردی کی کُل 193 اور 268 وارداتیں ہوئیں تھی۔ جبکہ گزشتہ ایک برس ہونے والی وارداتوں کی تعداد بڑھ کر 1077 تک جا پہنچی ہے۔ اس رواں سال 2026ء کے ابتدائی دو مہینوں میں ہی دہشتگردی کے 120 سے زیادہ واقعات ہو چکے ہیں
اس دوران پاکستان کی جانب سے افغان حکومت کو بارہا اسکی ذمہ داریوں اور افغانستان کی سرزمیں استعمال کرنے والے بھارتی پراکسی دہشت گرد گروہوں کے بارے میں توجہ دلائی جاتی رہی ہے مگر طالبان رجیم نے پاکستان کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنے اور شکایات کا ازالہ کرنے کے بجائے الٹا پاکستان پر الزام تراشیوں کے ساتھ ساتھ ان دہشت گرد گروہوں کی آشیر بادی جاری رکھی ہے۔
حالیہ دنوں میں بلوچستان میں باغیوں کی خونریزی اور خیبر پختونخوا کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی امام بارگاہ مسجد میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں بھی افغان حکومت کی سہولت کاری کے واضح شواہد ملے ہیں۔ افغانستان کے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی رپورٹ بھی بھارتی سہولت کار افغان حکومت کے بارے پاکستان کے خدشات اور تحفظات کی تصدیق کرتی ہے ۔ سلامتی کونسل نے افغانستان میں پرورش پانے والی شدت گرد تنظیموں کو پورے خطے کے امن کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ، عالمی تھنک ٹینک اور بین الاقوامی انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس میں بھی اس امر کی توثیق کی گئی ہے کہ افغانستان بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کیلئے ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔
پاکستان کو اپنی سلامتی کی حفاظت کیلئے یقینا ہر اُس اقدام کا حق حاصل ہے جو عالمی ضوابط کے مطابق اور وقت کی ضرورت ہو۔ اس ضمن میں امن کے قیام کیلئے اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 بالکل واضح ہے۔ پاکستان کا موقف عیاں ہے کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور دونوں اطراف کے عوام تاریخی اور دینی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ مگر یہ تعلق اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ افغانستان پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھوں کا کھلونا اور ین ہشت گردوں کا سہولت کار بننے کی بجائے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے ۔ پاکستان اور افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کیلئے ضروری ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال کرنے والے دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کی جائے۔
پاکستان کا اعلانیہ اور دو ٹوک موقف ہے کہ اگر افغانستان اپنی ضدی روش پر قائم رہا تو پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے اپنے دفاع کی ذمہ داریاں اور آہنی ردعمل بھرپور انداز میں واضح کر دیے ہیں۔ قیام امن کیلئے اب دہشت گردی کرنے والوں اور ان کے سب سہولت کاروں کا وجود صفحۃ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔
پاکستان میں دہشت گردی کے مجرم افغانوں اور سہولت کاروں کیخلاف فوجی آپریشن جاری رہے گا



