شاہین صہبائی، صحافت اور بیانیہ سازی کی سیاست— ایک عینی شاہد کی گواہی

تاثرات: مظہر طفیل

جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب شاہین صہبائی کو روزنامہ دی نیوز کا مدیر مقرر کیا گیا تو ابتدا ہی سے ان کے ریاستی اداروں کے ساتھ اختلافات شدت اختیار کرنے لگے۔ حالات یہاں تک پہنچے کہ وہ اچانک امریکہ منتقل ہو گئے اور وہاں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ اس کے فوراً بعد انہوں نے “ساؤتھ ایشیا ٹریبیون” کے نام سے ایک اشاعت کا آغاز کیا، جس میں پاکستان کے سیاسی اور عسکری معاملات پر مسلسل تنقیدی مواد شائع ہوتا رہا۔
ان دنوں میں جنگ گروپ کے تحت روزنامہ دی نیوز اور جیو ٹی وی سے بطور دفاعی نامہ نگار وابستہ تھا۔ میری ذمہ داری دفاعی امور، عسکری قیادت اور سلامتی پالیسی سے متعلق رپورٹنگ تھی ادھر جنرل مشرف سے اختلافات بڑھنے پر شاہین صہباٸی اچانک امریکہ واپس چلے گے اور دی نیوز سے استعفی دینے کے ساتھ ہی انہوں نے ساوتھ ایشیا ٹربیون ویب پیپر کا أغأز کردیا اسی دوران دی نیوز کے اس وقت کے ایک ساتھی رپورٹر کے زریعے مھجے رابطہ کرکے فوجی قیادت خصوصاً کور کمانڈرز اور اعلیٰ افسران کی ذاتی زندگیوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی، جسے میں نے پیشہ ورانہ اصولوں کے تحت مسترد کر دیا۔ میرے نزدیک صحافت کا مقصد کردارکشی نہیں بلکہ ذمہ دارانہ اطلاع رسانی ہے۔
بعد ازاں بعض تحریروں اور مہمات سے یہ تاثر ابھرا کہ عسکری اداروں کے خلاف ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ اوکاڑہ ملٹری فارمز جیسے معاملات میں بھی تنقید اور مہم کے درمیان فرق مٹتا ہوا محسوس ہوا۔ اختلافِ رائے جمہوری حق ہے، مگر یکطرفہ اور غیر متوازن انداز صحافت کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
کئی برس بعد ایک متنازع خبر میں میرا نام بھی شامل کر دیا گیا، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ مجھ سے صرف ایک محدود نوعیت کی تصدیقی معلومات لی گئی تھی۔ خبر کو جس انداز میں شائع کیا گیا وہ میرے مؤقف کے خلاف تھا، جس پر میں نے باقاعدہ احتجاج کیا اور وضاحت پیش کی۔
حالیہ عرصے میں سوشل میڈیا پر فوج سے متعلق بڑے پیمانے پر استعفوں کی خبریں بھی گردش کرتی رہیں، جنہیں متعلقہ اداروں نے بے بنیاد قرار دیا۔ اطلاعات کے اس دور میں غیر مصدقہ خبروں کا پھیلاؤ نہ صرف اداروں بلکہ معاشرے میں بھی بے چینی پیدا کرتا ہے۔ تنقید اگر تحقیق، توازن اور ذمہ داری کے ساتھ ہو تو اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے، لیکن اگر وہ قیاس آرائی اور جذبات پر مبنی ہو تو تقسیم کو بڑھاتی ہے۔
میرا مؤقف آج بھی وہی ہے جو کل تھا: صحافت کو ذاتی یا سیاسی مقاصد سے بالاتر ہو کر قومی مفاد، پیشہ ورانہ دیانت اور حقائق کی بنیاد پر انجام دیا جانا چاہیے۔ ریاستی اداروں پر تنقید کی جا سکتی ہے، مگر اس کا پیمانہ تحقیق اور ذمہ داری ہونا چاہیے، نہ کہ سنسنی اور تاثر سازی۔
وقت گزر جاتا ہے، بیانیے بدل جاتے ہیں، مگر اصولی صحافت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ تاریخ شور کو نہیں، کردار کو یاد رکھتی ہے۔

حال ہی میں شاہین صہباٸی نے سوشل میڈیا پر فوج سے متعلق ایک درفتنی پرمبنی ایک من گھڑت خبر جاری کی ہے جس کے مطابق ہزاروں فوجی افسران اور جوانوں نے استعفے دے دیے ہیں اس وقت شاہین صہباٸی مکمل طور پر اپنے ہوش وہواس کھو بیٹھا ہے یہ عادل راجہ،شہبازگل۔صابر شاکر،کرنل اکبر،عمران ریاض سمیت دیگر پاکستان مخالف بعیانیہ رکھنے والی بھارت نواز لابی کے ساتھ مل کر میڈیا مینجمینٹ کررہا ہے شاہین صہباٸی کا ایجنڈا بڑا واضح دکھاٸی دے رہا ہے کہ کسی طرح پاکستان کے اندر نوجوانوں کوفوج اور خصوصی طور پر ریاستی اداروں کے خلاف سڑکوں پر لایا جائے۔



  تازہ ترین   
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 34خوارج جہنم واصل
تربت: گھر پر نامعلوم افراد کا حملہ، ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق
آئی ایم ایف کا جائزہ مشن 15 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا
افغان طالبان کی سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کا منہ توڑ جواب، افغان چیک پوسٹ تباہ
محسن نقوی کی اطالوی ہم منصب سے ملاقات، 10,500 ورک ویزوں پر اتفاق
روس، یوکرین جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں: پاکستانی مندوب عاصم افتخار
وزیراعظم کی قطری ہم منصب سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
کوہاٹ: دہشت گردوں کا پولیس موبائل پر حملہ، 5 اہلکاروں سمیت 7 افراد شہید





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر