تحریر: عابد حسین قریشی
اللہ کی کتاب قرآن کریم میں یوں حکم ہو رہا ہے۔ “کہ اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں، جس طرح پہلی امتوں پر فرض تھے، تاکہ تم متقی اور پرہیز گار بن جاو۔ “” روزے فرض ہونے تک تو کوئی ابہام نہیں، نہ کوئی چیز زیر بحث آسکتی ہے۔ البتہ متقی اور پرہیزگار کس طرح بننا ہے، یہ بحث طلب معاملہ ہے۔ سورہ بقرہ کی یہ آیت تو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے ہے۔ اور ظاہر ہے دنیا بھر کے مسلمان ہی ماہ رمضان میں روزے رکھتے ہیں۔ لیکن آج پاکستان کے مخصوص حالات میں روزہ کی وجہ سے متقی اور پرہیز گار بننے والے عوامل پر بات کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں رمضان المبارک کا شدت سے انتظار کیا جاتا ہے۔ لوگ روزہ ثواب کی نیت سے رکھتے ہیں۔ مساجد میں نماز اور تراویح کے اوقات میں غیر معمولی رش اور رونق نظر آتی ہے۔ گھروں میں افطاری کا خصوصی اہتمام ہوتا ہے، بڑے بڑے ہوٹلوں، کلبوں اور فارم ہاوسز پر دعوت افطار کی بکنگ ایک اچھا خاصا مسئلہ بن جاتی ہے۔ سر شام لگتا ہے کہ سارا شہر ہی افطار کے لئے کہیں نہ کہیں جا رہا ہے۔ یہ بڑا خوش کن منظر ہوتا ہے۔ لوگ قرآن پاک بھی خصوصی اہتمام کے ساتھ پڑھتے نظر آتے ہیں، یہ سب کچھ دیکھ کر لگتا ہے، کہ واقعی شیطان اس ماہ مقدس میں زنجیروں میں جکڑا جا چکا ہے۔ یہ سب کچھ ہی بڑا مسحور کن اور روح پرور ہے، تو پھر لوگ مستقلاً متقی اور پرہیز گار کیوں نہیں بنتے، یہ معاملہ خاصا گہرا مگر غور طلب ہے۔ پاکستانی معاشرہ میں رہتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ جو محسوس کیا وہ بڑا دلچسپ بھی ہے، کہیں کہیں روح پرور بھی اور کہیں افسوس ناک بھی۔ بنیادی طور پر پاکستان میں چار پانچ طرح کے لوگ ماہ رمضان سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ پہلے نمبر پر وہ لوگ جو ماہ رمضان کو اپنے اوپر باقاعدہ طاری کر لیتے ہیں، رمضان کا چاند دیکھنے کے ساتھ ہی تمام معمولات زندگی تبدیل۔ نماز پنجگانہ با جماعت، تراویح کا اہتمام، قرآن کی تلاوت، دنیا داری سے کنارہ کشی، جھوٹ اور غیبت سے پرہیز، دوسرے نمبر پر وہ لوگ ہیں، جو عمومی طور پر مزہب سے قریب سمجھے جاتے ہیں اور وہ رمضان کی عبادات کو بھی معمول کی عبادات ہی سمجھتے ہیں، البتہ قرآن پاک کی تلاوت و تفسیر میں زیادہ وقت دیتے ہیں۔ تیسری قسم کے لوگوں میں ہماری طرح کے دنیا دار ہوتے ہیں، جو نماز روزہ کی پابندی بھی کرتے ہیں اور ساتھ دنیا کے جھمیلوں سے بھی نبرد آزما رہتے ہیں۔ چوتھی قسم کاروباری اور تجارت پیشہ لوگوں کی ہے، جو عمومی طور پر مزہب پسند ہی سمجھے جاتے ہیں، یہ بھی روزوں کا اچھے طریقہ سے اہتمام کرتے ہیں، روزہ رکھتے بھی ہیں اور لوگوں کی افطاریاں بھی کرواتے ہیں۔ یہ سب اپنی اپنی جگہ پہ ٹھیک ہی ہونگے۔ مگر پرہیز گاری اور تقویٰ والے لوگ کہاں اور کدھر سے ملتے ہیں۔ کیا وہ تاجر روزے رکھ کر پرہیز گار ہو گیا، جس نے ماہ رمضان کے آنے سے پہلے سستی کھجوریں، دالیں، گھی ، پھل فروٹ خرید کر ذخیرہ کئے رکھا اور رمضان کے آتے ہی انہیں مہنگا کرکے فروخت کیا اور غریب مسلمانوں کی مالی مشکلات میں اضافہ کیا۔ کیا وہ سرکاری ملازم یا افسر پرہیزگاری کے قریب پہنچا، جس نے رمضان کے روزوں کی آڑ میں کام چوری کی، مخلوق خدا کو تنگ کیا اور عیدی وصول کرنے کے چکر میں کئی کام اپنے ضمیر کے خلاف کئے۔ کیا وہ مستری، مزدور، موٹر مکینک، الیکٹریشن، دیہاڑی دار، پھل اور سبزی فروش نے ایمانداری سے کام کیا اور ناجائز منافع خوری سے اجتناب کیا۔ اگر یہ سب کچھ رمضان المبارک کی وجہ سے پہلے سے مہنگا ہوا، لوگوں کے لئے معاشی مسائل پیدا کئے گئے، کام چوری اور حرام خوری بھی چلتی رہی، تو پھر کونسا تقوٰی اور کونسی پرہیزگاری۔ پھر صرف بھوک برداشت کی گئی۔ جسے آپ روزہ کہنا چاہتے ہیں، تو بیشک کہہ لیں، مگر پرہیز گاری کا سفر تو شروع ہی نہ ہو سکا۔ یہی اصل المیہ ہے، جس پر ہم غور و فکر ہی نہیں کرتے۔ ہم رمضان کے روزوں کو بھی ایک معمول کی ایکسرسائز سمجھتے ہیں۔ کہ صبح متعین اوقات میں سحری کرنی ہے اور شام کو اہتمام کے ساتھ بھرپور قسم کی افطاری۔ مگر جو کام قدرت ان روزوں کے فرض کرکے لینا چاہتی تھی، وہ تو ادھورا رہا۔ اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے، کہ کیا سب کے روزے اسی طرح ہوتے ہیں، یا کچھ لوگ پرہیز گاری کے قریب پہنچنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ بہت تھوڑے سہی مگر ایسے لوگ ابھی اس معاشرہ میں ہیں، جو اس ماہ مقدس میں اپنا تزکیہ نفس کرتے ہیں۔ جو صرف بھوک اور پیاس کو ہی نہیں روکتے بلکہ اپنے نفس کو برائی سے روکتے ہیں۔ جو جھوٹ اور غیبت سے پرہیز کرتے ہیں۔



