راولپنڈی ،کابل(نیشنل ٹائمز)افغانستان میں جیٹ طیاروں کی کارروائی میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر دئیے گئے ۔افغان میڈیا کے مطابق صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل پر فضائی حملے کئے گئے ، پکتیکا کے علاقے مرغابازار کے قریب دھماکے ہوئے ،دھماکوں میں دہشت گردوں کا انفرااسٹرکچر تباہ ہوگیا، پکتیکا کے بعد ننگرہار کے ضلع خوگیانی پر بھی حملہ کیا گیا ، حملوں میں ممکنہ طور پر ہلاک دہشتگردوں کی تعداد واضح نہیں ہوسکی۔ذرائع کے مطابق دھماکوں سے دہشتگردوں کے ٹھکانے مکمل ملیا میٹ ہوگئے ۔ادھر خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سکیورٹی فورسز نے اپنے قافلے پر حملے کو ناکام بنا کر 5 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جبکہ اس دوران لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی شہید ہوگئے ۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ افغان طالبان رجیم پاکستان کیخلاف پھر اپنی سرزمین کا استعمال روکنے میں ناکام رہا ہے ، ذمہ دار جہاں کہیں بھی ہوں نشانہ بنائیں گے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق ضلع بنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز کے قافلے کو بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کی جانب سے بزدلانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا، کارروائی علاقے میں خودکش بمبار سمیت خوارج عناصر کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق ایک بارود سے بھری گاڑی پر سوار خودکش بمبار کو سکیورٹی فورسز کے اگلے دستے نے بروقت روک کر اس کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا، خوارج کی جانب سے حملے کا مقصد بنوں شہر میں معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانا تھا۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ آپریشن کے دوران خوارج کے ٹھکانوں کا سراغ لگا کر شدید فائرنگ کے تبادلے میں 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا، مایوسی میں دہشت گردوں نے بارودی مواد سے بھری گاڑی اگلے گروپ کی ایک گاڑی سے ٹکرا دی، حملے میں مانسہرہ کے رہائشی 43 سالہ لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز شہیدہوگئے ، گل فراز ایک بہادر کمانڈنگ آفیسر تھے جوکہ اپنے جرات مندانہ اقدامات کیلئے مشہور تھے ، وہ اپنے دستوں کی فرنٹ سے قیادت کر رہے تھے ، پشاور کے رہائشی 28 سالہ سپاہی کرامت شاہ نے بھی جامِ شہادت نوش کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق خوارج عناصررمضان کے مقدس مہینے کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ آئی ایس پی آر نے کہا افغان طالبان حکومت ایک بار پھر افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے سے روکنے میں ناکام رہی ہے ، پاکستان کسی قسم کا ضبط و تحمل نہیں برتے گا اور اس گھناؤنے اور بزدلانہ فعل کے ذمہ داروں کے خلاف ان کی موجودگی سے قطع نظر کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ خوارج کو قرار واقعی سزا دی جا سکے ۔پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے وژن \\”اعظم استحکام \\” کے تحت ملک سے غیر ملکی سپانسرڈ اور حمایت یافتہ دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کیلئے کارروائیاں پوری رفتار سے جاری رہیں گی، ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہماری قوم کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق خودکش حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود شدت پسند کمانڈر حافظ گل بہادر سے جا ملے ہیں،حملے کی ذمہ داری فتنہ الخوارج کے ذیلی گروہ ‘‘اتحاد المجاہدین’’ نے قبول کی ہے ، جو حافظ گل بہادر گروپ سے منسلک ہے۔حملے کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری بھی افغانستان میں ہوئی ہے ۔سکیورٹی ذرائع نے کہا اسی گروہ نے 4 مارچ 2025 کو ماہِ رمضان کے دوران بنوں کینٹ پر حملہ کیا تھا، جس کی منصوبہ بندی بھی افغانستان سے ہوئی تھی۔ علاوہ ازیں 2 ستمبر 2025 کو فیڈرل کانسٹیبلری بنوں پر حملے میں میجر عدنان نے بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا تھا، جس کی ذمہ داری بھی فتنہ الخوارج نے قبول کی تھی۔ذرائع کے مطابق میر علی سمیت شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ہونے والے متعدد حملوں کی ذمہ داری بھی اسی گروہ نے قبول کی، جبکہ بعد ازاں تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی اور معاونت افغانستان سے کی گئی۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حافظ گل بہادر سمیت فتنہ الخوارج کے مرکزی سرغنوں کی افغانستان میں موجودگی اس امر کا ثبوت ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے ۔ مزید کہا گیا ہے کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کے باعث انہیں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں، جو خطے میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔شواہد کے حوالے سے سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں 70 فیصد سے زائد عناصر افغان نژاد یا افغانستان سے مربوط نیٹ ورکس سے تعلق رکھتے ہیں۔سکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور کہا کہ شہدا کی عظیم قربانی قوم کا سرمایہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کی جانب سے رمضان کے بابرکت مہینے میں دہشت گردی کی کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔پوری قوم دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کی افواج کے ساتھ کھڑی ہے ، ہم ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پرعزم ہیں۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز نے جان دے کر فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی،سپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق ،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وفاقی وزیر و صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان ودیگر نے بھی دہشتگردی کی مذمت کی اور شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔ادھر خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر میں وادی تیراہ کے علاقہ چاپری میں نامعلوم سمت سے فائر کیے گئے مارٹر گولے گرنے 4 شہری جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے ۔ایک گولہ مسافر پک اپ پر آ گرا جس کے باعث 2 بچوں سمیت 4 مقامی افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے ۔
بنوں : بارود بھری گاڑی کا دھماکا، لیفٹیننٹ کرنل اور سپاہی شہید : افغانستان میں فضائی حملے، دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ



