اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)اسلام آباد کی عدالت نے ریاستی اداروں پر الزامات کے کیس میں مسلسل عدم حاضری پر وزیر اعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر تے ہوئے گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ گزشتہ روز سینئر سول جج عباس شاہ کی عدالت میں سماعت کے دوران متعدد مرتبہ طلبی کے باوجود سہیل آفریدی پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے عدالت پیش کیاجائے ،عدالت نے مزید سماعت 9 مارچ تک ملتوی کردی۔دوسری طرف اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نصرمن اللہ کی عدالت نے آڈیو لیک کیس میں سابق وزیر اعلیٰ پختونخوا علی امین گنڈاپور کے عدالت پیش ہوجانے پر اشتہاری کی کارروائی ختم کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور اور شریک ملزم اسد فاروق پر فرد جرم عائد کردی۔گزشتہ روز سماعت کے دوران علی امین گنڈاپور اپنے وکیل راجہ ظہور الحسن کے ہمراہ جبکہ شریک ملزم اسد فاروق بھی عدالت پیش ہوئے ۔علی امین گنڈاپور نے مؤقف اختیار کیا کہ سکیورٹی صورتحال، کرفیو اور راستوں کی بندش کے باعث پیش نہیں ہو سکے ۔ اس موقع پر وکیل صفائی نے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے آئندہ احتیاط اور حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسی صورتحال میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی جا سکتی ہے ، کیس کی سماعت 6 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ۔
اداروں پر الزامات کیس : سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم



