بھگت کبیر ہندو ہوں یا مسلمان، انہیں جاننا کیوں ضروری؟

تحریر: سجاد اظہر

مسلمان سمجھتے تھے کہ بھگت کبیر ان کے ہم مذہب ہیں اور ہندو انہیں اپنے دھرم کا سمجھتے تھے۔ وہ سکھ مت کے بانی گرو نانک سے لگ بھگ 71 سال پہلے پیدا ہوئے لیکن دونوں کی آخری رسومات میں ایک قدر مشترک ہے۔

جیسا کہ بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ گرو نانک کے انتقال کے وقت بھی مسلمانوں اور سکھوں میں جھگڑا پڑ گیا تھا، ہندو ان کا کریا کرم کرنا چاہتے تھے اور مسلمان انہیں دفنانا چاہتے تھے لیکن پھر دیکھا تو ان کی لاش غائب تھی اور چارپائی پر صرف پھول رکھے تھے۔

جو روایت گرو نانک کے انتقال کے بارے میں 22 ستمبر 1539 کو سامنے آئی، وہی روایت ان سے کچھ سال پہلے 1518 میں وفات پانے والے بھگت کبیر کے بارے میں بھی بیان کی جاتی ہے۔

بن باپ کا بیٹا جو بھگت بن گیا

’ہندوستان کی مشہور ہستیاں‘ حصہ دوم، جسے انڈیا کی وزارت اطلاعات نے 1964 میں شائع کیا تھا، اس کتاب میں بھگت کبیر کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کا جنم 1398 میں اتر پردیش میں ہوا تھا۔ ان کی پیدائش کے بارے میں دو روایات بیان کی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ کاشی میں نیرو نام کا ایک جولاہا رہتا تھا۔ یہ وہی کاشی ہے جسے آج وارانسی کہتے ہیں، جس کی حیثیت ہندوؤں کے روحانی دارالحکومت کی ہے، یہیں گنگا میں ہندو اشنان کرتے ہیں۔ یہاں دو ہزار کے قریب مندر ہیں جن میں ہندوؤں کا گولڈن ٹیمپل ’کاشی وشوا ناتھ مندر‘ بھی ہے۔

روایت ہے کہ کاشی میں رہنے والے نیرو اور نیما کی کوئی اولاد نہیں تھی جس کے لیے وہ منتیں مرادیں مانگتے رہتے تھے۔ ایک رات نیرو نے خواب دیکھا جس میں اسے کہا گیا کہ ’تو لڑکا چاہتا ہے تو کل صبح لہر تارا تالاب کے کنارے جا، وہاں کنول کے پھول کے اوپر ایک بچہ لیٹا ہو گا، اسے اپنا لڑکا سمجھ کر گھر لے آ۔‘

صبح اٹھتے ہی اس نے یہ خواب اپنی بیوی کو سنایا تو دونوں بھاگے بھاگے تالاب کے کنارے جا پہنچے جہاں سچ مچ ایک نوزائیدہ بچہ کنول کے پھول پر لیٹا ہوا تھا۔ انہوں نے اسے اٹھا لیا اور گھر لے آئے۔ یہ بچہ بڑا ہوا تو بھگت کبیر کے نام سے مشہور ہوا۔

یہ بچہ کنول کے پھول پر کون لٹا کر گیا تھا؟ اس کے بارے میں روایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک برہمن اپنی بیوہ بیٹی کے ساتھ گنگا میں اشنان کرنے آیا تھا، جہاں اس نے مشہور سوامی رامانند کو پرنام کیا تو اس نے برہمن کی بیٹی کو آشیرواد دیتے ہوئے کہا: ’جا بیٹی، پتر وتی ہو‘ یعنی تیری گود بھری ہو۔ یہ آشیرواد سن کر برہمن چونک پڑا کہ میری لڑکی تو بیوہ ہے۔ سوامی رامانند بولے، ’اب آشیرواد تو دے چکا ہوں، یہ یاد رکھنا کہ اس لڑکی کا پتر بہت بڑا سنت ہو گا۔‘

پھر ایسا ہی ہوا، جب اس لڑکی کا بچہ ہوا تو اس نے بدنامی کے ڈر سے اسے تالاب میں کنول کے پھول پر رکھ دیا، جہاں سے اسے نیرو نامی جولاہا اور اس کی بیوی اٹھا کر لے گئے۔ انہوں نے اسے اپنے بچوں کی طرح پالا۔ جس سوامی رامانند نے برہمن کی بیٹی کو بچے کا آشیرواد دیا تھا، وہی بچہ بڑا ہوا تو ان کا چیلا بن گیا۔

یہ کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ کبیر کو پالنے والے والدین مسلمان تھے، کبیر نے ہوش سنبھالا تو گرو کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ اس زمانے میں سوامی رامانند کا بہت چرچا تھا مگر سوامی رامانند ہندو تھے اور کبیر مسلمان۔ اسے معلوم تھا کہ سوامی اسے منتر نہیں دیں گے اس لیے اس نے ایک ترکیب سوچی۔ سوامی جی روزانہ صبح سویرے اشنان کرنے گنگا جایا کرتے تھے۔ ایک روز کبیر جی ایک سیڑھی پر جا کر لیٹ گئے۔ سوامی جی کا اندھیرے میں پاؤں کبیر پر پڑ گیا اور کبیر جی رام رام کرتے اٹھ بیٹھے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب سوامی رامانند نے کبیر کو اپنے حلقہ ارادت میں لے لیا۔

کبیر سے منسوب ماورائی قصے

رامانند کا مرید ہونے کے باوجود بھی کبیر نے دنیا کو نہیں چھوڑا۔ وہ اپنے پیشے کی نسبت سے کپڑا بنتے اور بازار میں جا کر بیچ آتے، کبھی کبھی سادھو سنتوں کو دے آتے اور گھر خالی ہاتھ لوٹ آتے۔

ان کی شادی کے بارے میں بھی مختلف آرا ہیں۔ ایک یہ کہ جب ان کی عمر 30 برس تھی تو ایک روز وہ گنگا کنارے ایک بیراگی کے پاس بیٹھے تھے کہ وہاں 20 برس کی ایک لڑکی آئی۔ کبیر سے پوچھا، ’تم کون ہو؟‘ کبیر نے اپنا نام بتایا اور کہا کہ میں جولاہا ہوں۔ اس کے بعد لڑکی نے وہاں بیٹھے دیگر سنتوں کے ساتھ کبیر کو بھی دودھ کا ایک گلاس دیا مگر کبیر نے اسے پینے کی بجائے رکھ دیا۔

لڑکی نے پوچھا: ’تم نے دودھ کیوں نہیں پیا؟‘ تو کبیر نے کہا کہ گنگا پار سے ایک سادھو آ رہا ہے، یہ دودھ اس کے لیے رکھ چھوڑا ہے، جس پر لڑکی بولی کہ آپ اپنا حصہ پی لیں میرے پاس اور دودھ بھی ہے، جس پر کبیر نے کہا کہ ہم شبدا ہاری ہیں۔

کبیر نے لڑکی سے پوچھا تم کون ہو، اس نے جواب دیا کہ میں بن ماں باپ کے ہوں، میری پرورش ایک بیراگی نے کی وہ مر گیا، اب میں اکیلی رہتی ہوں۔ بیراگی کہتا تھا کہ ایک دن وہ گنگا میں اشنان کر رہا تھا، ایک ٹوکری بہتے بہتے میرے بدن سے آ لگی۔ میں نے اسے دیکھا تو اس میں ایک بچہ کپڑے میں لپٹا ہوا تھا۔ اس نے گھر لا کر اس کی پرورش کی اور اس کا نام لوئی رکھا، میں ہی وہ لوئی ہوں۔

ایک روایت ہے کہ یہی لوئی بعد میں کبیر کی بیوی بن گئی، جس سے کبیر کا ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئی جبکہ دوسری روایت کے مطابق دونوں ایک ساتھ رہتے تھے مگر میاں بیوی کی حیثیت سے نہیں۔

کبیر کے دونوں بچوں کا تعلق کشف و کرامات سے بتایا جاتا ہے، جن کے مطابق ایک بار کبیر نے گنگا میں ایک بچے کی لاش دیکھی۔ کبیر نے اس کے کان میں کچھ کہا اور بچہ زندہ ہو گیا اور رونے لگا۔ لڑکی کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک پڑوسی کی بیٹی مر گئی تھی، کبیر صاحب نے اسے بھی زندہ کر دیا تو انہوں نے وہ بچی کبیر کو ہی دے دی۔ لوئی نے ان دونوں بچوں کی پرورش کی جو کمال اور کمالی کے نام سے مشہور ہوئے۔

کبیر کا مذہب کیا تھا؟

کبیر ہندو تھے یا مسلمان؟ اس سوال کا کوئی واضح جواب تو نہیں ہے لیکن وہ بھگت تھے اور دونوں مذاہب کے مذہبی پیشواؤں کے طور طریقوں کو چیلنج کرتے تھے۔ پنڈت منوہر لال موتی اپنی کتاب ’بھگت کبیر، حیات و تعلیمات‘ میں لکھتے ہیں کہ وہ اصلاح قلب کے قائل تھے اور مذہبی پیشواؤں نے ظاہری پاکھنڈوں کو جس طرح مذاہب کا حصہ بنا دیا تھا، اس کی سخت مذمت کرتے تھے۔ مسلمان انہیں صوفیا کا مقلد مانتے تھے، وہ توحید پرستی کی تلقین، بت پرستی کی مذمت، ذات پات اور چھوت چھات سے انکار کرتے تھے۔

اپنے کلام میں فرماتے ہیں (ترجمہ):

’اگر پتھر کے پوجنے سے خدا ملے تو میں پہاڑ کو پوجوں
ایک نور سے سب پیدا ہوئے ہیں، کون برہمن ہے اور کون شودر
کبیر کہتا ہے ایک خدا کو مانو، نہ کوئی ہندو نہ کوئی مسلمان‘

مثال کے طور پر اپنے کلام میں وہ فرماتے ہیں (ترجمہ):

’سنتو، ہم نے دونوں راستے دیکھے۔ ہندو مسلمان اپنی ہٹ سے نہیں مانتے، مزہ دونوں کا میٹھا ہے۔ ہندو برت رکھ کر دودھ سنگھاڑا کھاتے ہیں، اناج چھوڑتے ہیں، مگر من نہیں رکتا، گوشت کھاتے ہیں۔ مسلمان روزہ نماز کرتے ہیں، بسم اللہ کی بانگ لگاتے ہیں، ان کو کہاں سے بہشت ملے گی جو روز شام کو مرغی مارتے ہیں۔ ہندوؤں نے دل سے دَیا چھوڑ دی اور مسلمانوں نے مہربانی چھوڑ دی۔ وہ حلال کرتے ہیں، وہ جھٹکا مارتے ہیں، دونوں کو آگ لگی ہے۔ ست گرو نے یہی بتایا ہے کہ ہندو مسلمانوں کی راہ ایک ہے۔ کبیر کہتا ہے کہ سنتو، سنتو رام نہ کہو تو خدا کہو۔‘

ایک بار کچھ برہمن گنگا کنارے بیٹھے ہوئے گنگا جل کی تعریف کر رہے تھے کہ اس سے سارے گناہ دھل جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک نے پانی مانگا۔ کبیر ان کی باتیں سن رہا تھا، اٹھ کر گیا اور اپنا پیالہ پانی سے بھر کر برہمن کے پاس لے آیا۔ چونکہ کبیر جولاہا تھا اور برہمن ان لوگوں کا ہاتھ چھوا ہوا کھاتے پیتے نہیں، اس لیے برہمن نے پانی نہیں پیا۔

کبیر نے کہا آپ ابھی فرماتے تھے کہ گنگا جل سے گناہ کی گندگی سے بدن اور روح دھل جاتے ہیں، اگر یہ پانی میرے برتن کو بھی پاک نہیں کر سکتا تو اس تعریف کے قابل نہیں۔

جب سکندر لودھی نے کبیر کو سزائے موت دے دی

ہندو مسلمان دونوں کے پیشواؤں نے تنگ آ کر بادشاہ وقت سکندر لودھی سے شکایت کر دی۔ سکندر لودھی نے بھگت کبیر کو سزائے موت سنا دی اور حکم دیا کہ کبیر کو زنجیروں سے جکڑ کر دریا برد کر دیا جائے۔

جب سزا پر عمل درآمد کیا گیا تو سب نے دیکھا کہ پانی کبیر کو نہ ڈبو سکا، زنجیریں ٹوٹ گئیں اور وہ چلتے ہوئے دریا سے باہر آ گئے، جس پر انہیں آگ میں ڈالا گیا۔ یہاں بھی کبیر کے لیے آگ ٹھنڈی ہو گئی، پھر انہیں بدمست ہاتھی کے آگے ڈالا گیا مگر ہاتھی ان کی شکل دیکھتے ہی شانت ہو گیا۔

اپنے کلام میں کبیر اس واقعے کو یوں بیان کرتے ہیں (ترجمہ): ’گنگا بہت تیز ہے، زنجیر میں بندھے کھڑے ہیں، دل مضبوط ہو تو تن کیوں خوف کھائے۔ میرے دل میں خدا کا قدم سمایا ہوا ہے، گنگا کی لہر سے میری زنجیر ٹوٹ گئی۔ کبیر مرگ چھالا پر بیٹھے ہیں۔ کبیر کا نہ کوئی سنگ ہے نہ ساتھ، تری اور خشکی میں رگوناتھ حفاظت کرتے ہیں۔‘

کبیر جو مر کر امر ہو گیا

ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ جو کاشی میں مرتا ہے اس کو نجات مل جاتی ہے اور جو مگھر میں مرتا ہے (کاشی اور مگھر کے درمیان تقریباً دو سو کلومیٹر کا فاصلہ ہے) اس کا دوسرا جنم گدھے کا ہوتا ہے۔

کبیر نے اس تصور کو غلط ثابت کرنے کے لیے زندگی کے آخری لمحات کاشی کی بجائے مگھر میں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے کلام میں فرمایا: (ترجمہ): ’کاشی ہو یا مگھر مجھے پروا نہیں، میرے دل میں رام بسا ہوا ہے، اگر کبیر کی موت کاشی میں ہوتی تو پھر رام کا کون سا احسان؟ مطلب یہ کہ کاشی میں جو کوئی مرتا ہے اس کو نجات تو مل ہی جاتی ہے۔ کبیر مرے تو اس کی نجات بھی ہو جائے گی۔ ہاں مگھر میں مروں اور نجات ہو تو معلوم ہو کہ رام نے اپنے بھگت کی قدر دانی کی۔‘

کبیر کی وفات پر مسلمانوں اور ہندوؤں میں تنازع ہو گیا تھا اس لیے کبیر کی لاش کی جگہ پھول ملے، جن میں سے آدھے مسلمانوں نے اور باقی آدھے ہندوؤں نے دفنا دیے۔ انہوں نے 120 برس کی عمر پائی۔

مگھر میں دونوں مزارات قریب قریب ہیں۔ مسلمان ہر سال 27 ربیع الثانی کو ان کا عرس مناتے ہیں اور ہندو ان کا سالانہ میلہ لگاتے ہیں۔ ان کی وفات کے بعد ان کا کلام جمع کیا گیا تو ان کے نام سے بہت سی تصانیف سامنے آئیں اور یہ تعداد 82 تک جا پہنچی۔ تاہم کبیر کے مجموعہ کلام ’کبیر بچناولی‘ میں 21 کتابوں کی فہرست دی گئی ہے۔

سکھوں کی مذہبی کتاب گرنتھ صاحب میں بھی ان کا کلام شامل ہے۔ ان کا حاصل کلام یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا ایکتا ہے، سب دھرموں کا خالق ایک ہے اور ہم سب اسی کے ہیں، ہندو، مسلمان اور مسیحی سب بھائی بھائی ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور ہمدردی کا برتاؤ کرنا ہی سچا دھرم ہے۔ مہاتما گاندھی کبیر کے دلدادہ تھے اور ان کا یہ بھجن ہر وقت گاتے رہتے تھے: ’رام کہو یا رحیم، مطلب تو اس کی یاد سے ہے۔‘

بھگتی تحریک، جس کے محرکین میں کبیر اور گرو نانک تھے

بھگت کبیر 1518 میں جبکہ بابا گرو نانک 1539 میں فوت ہوئے، لیکن دونوں کی تعلیمات سے 15ویں صدی میں ہندوستان میں بھگتی تحریک نے جنم لیا، جس کا مقصد مذہب کو مولوی اور پنڈت کی قید سے آزاد کروا کر معبود اور بندے کا رشتہ مضبوط کرنا تھا۔

بھگتی تحریک ہندوستان کی سرزمین سے اٹھی تھی، یہ کسی ایک مذہب کی تحریک نہ تھی۔ اس تحریک کے رہنماؤں اور ماننے والوں میں ہندو، مسلمان اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے بھی شامل تھے۔ چونکہ مذہبی رہنماؤں نے مذاہب پر اجارہ داری قائم کر لی تھی اس لیے بھگتی تحریک پنڈت اور ملا کے سخت خلاف تھی۔

بھگتی تحریک کے رہنما مذہبی رسومات کا مذاق اڑایا کرتے تھے کیونکہ ان کے مطابق ان رسومات کی وجہ سے ملا اور پنڈت سماج میں اہم بنے بیٹھے تھے۔ اس تحریک کا مقصد مذہبی تعصبات کو ختم کر کے خدا اور خدا کے بندوں سے محبت پھیلانا تھا۔ بھگتی تحریک کا نصب العین اسلام اور ہندو مت کی مشترکات کی بنیاد پر مذہبی تفریق ختم کرنا تھا تاکہ مذاہب کا زور رسومات اور مذہبی تنازعات سے ہٹ کر مذہبی رواداری، مساوات اور محبت پر مرکوز ہو جائے۔

بھگت جو کچھ کہہ رہے تھے یہی کچھ صوفیا کی بھی تعلیمات تھیں، دونوں ہندوستان میں تکثیری سماج کے فروغ پر کاربند تھے۔ آج بھگت کبیر اور گرو نانک کو گزرے ہوئے کم و بیش پانچ صدیاں بیت چکی ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان میں مذہبی رواداریوں کے فروغ کے لیے ان کی تعلیمات آج بھی مینار نور ہیں۔



  تازہ ترین   
کراچی: سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کیلئے 300 دکانوں کا انتظام کر دیا گیا
ہرجانہ کیس: سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو عمران خان کے خلاف کارروائی سے روک دیا
عالمی مالیاتی فنڈ کا پاکستان کی معیشت میں بہتری، مہنگائی قابو میں رہنے کا اعتراف
وزیراعظم کی امریکا میں مختلف ممالک کے صدور سے ملاقاتیں، غزہ پر تبادلہ خیال
رمضان المبارک کے آغاز پر ہی مہنگائی کی شرح میں بڑا اضافہ
باجوڑ پوسٹ پر حملہ کرنے والا دہشتگرد بھی افغان نکلا، ناقابل تردید شواہد مل گئے
محکمہ داخلہ پنجاب کی کالعدم تنظیموں اور غیر رجسٹرڈ خیراتی اداروں کی فہرست جاری
فلسطین کیلئے 12 ارب ڈالر کا اعلان خوش آئند ہے: خواجہ محمد آصف





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر