لاہور (نیشنل ٹائمز) حکومتِ پنجاب نے صوبے کے اعلیٰ سرکاری افسران کے لیے گاڑیوں اور پیٹرول کی نئی پالیسی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب سمیت گریڈ 18 سے 22 تک کے افسران کو زیادہ انجن پاور والی گاڑیاں اور اضافی پیٹرول فراہم کیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب تین سرکاری گاڑیاں اپنے استعمال میں رکھ سکیں گے، جن میں 2800 سی سی، 1800 سی سی اور 4700 سی سی گاڑیاں شامل ہوں گی۔ دو گاڑیوں کے لیے ماہانہ 800 لیٹر پیٹرول فراہم کیا جائے گا جبکہ 4700 سی سی گاڑی کے لیے پیٹرول کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔ اس سے قبل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو 1300 اور 1600 سی سی گاڑیاں رکھنے کی اجازت تھی اور ماہانہ 200 لیٹر پیٹرول دیا جاتا تھا۔
نئی پالیسی کے تحت گریڈ 22 اور 21 کے سیکرٹری حضرات 2800 اور 1800 سی سی کی دو گاڑیاں استعمال کر سکیں گے۔ ان افسران کو ذاتی استعمال کے لیے 200 لیٹر جبکہ سرکاری استعمال کے لیے لا محدود پیٹرول فراہم کیا جائے گا۔ پرانی پالیسی میں انتظامی سیکرٹری کو 1300 سی سی گاڑی اور 200 لیٹر پیٹرول کی اجازت تھی۔
گریڈ 19 اور 20 کے اسپیشل سیکرٹری اور ڈی آئی جی کو 1600 سی سی گاڑی اور 250 لیٹر پیٹرول ماہانہ دیا جائے گا، جبکہ پہلے یہ افسران 1000 سے 1300 سی سی گاڑی اور 175 لیٹر پیٹرول تک محدود تھے۔ اسی طرح گریڈ 19 کے ایڈیشنل سیکرٹری 1600 سی سی گاڑی اور 200 لیٹر پیٹرول ماہانہ استعمال کریں گے۔
گریڈ 18 کے ڈپٹی سیکرٹری کو 1500 سی سی گاڑی اور 175 لیٹر پیٹرول کی منظوری دی گئی ہے، جب کہ پہلے انہیں 1000 سی سی گاڑی اور 150 لیٹر پیٹرول کی اجازت تھی۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے اسٹاف افسران اور سیکشن افسران 1300 سی سی گاڑی اور 150 لیٹر پیٹرول ماہانہ استعمال کریں گے، جبکہ صوبائی وزراء کے اسٹاف افسران کو 1300 سی سی گاڑی اور 125 لیٹر پیٹرول فراہم کیا جائے گا۔
نئی پالیسی کے اجرا کے بعد سرکاری اخراجات میں اضافے اور مراعات کے حوالے سے مختلف حلقوں میں بحث شروع ہو گئی ہے۔
پنجاب میں اعلیٰ افسران کے لیے لگژری گاڑیوں اور اضافی پیٹرول کی منظوری، نئی پالیسی جاری



