تحریر: عابد حسین قریشی
ویسے تو قرآن کریم میں بھی جس جس طریقہ سے نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف و توصیف خود اللہ تعالٰی نے فرمائی ہے، اسے بھی عاشقان رسول نعت ہی سمجھتے ہیں، اور جنکی اللہ خود تعریف فرما رہا ہو، اب اور کوئی کیا تعریف میں لکھے گا، مگر یہاں معاملہ دلچسپ بھی ہے، اور روح پرور بھی۔ نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں ہی حضرت حسان بن ثابت شاعر رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روپ میں سامنے آئے۔ انہوں نے آقا کریم کے سراپا مبارک سے لیکر خصائل و سیرت پر بہت کمال کی نعت خوانی کی، جسے آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم پسند بھی فرماتے رہے۔ نعت خوانی کا یہ سلسلہ پھر رکا نہیں، بلکہ ہر دور میں اور ہر خطہ میں شعراء نے نعت خوانی پر طبع آزمائی کی۔ اور ان لوگوں نے تو کمال ہی کر دیا جنہوں نے آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا بھی نہیں تھا، مگر چشم تصور سے ایسا ایسا دلکش و دلربا نقشہ آقا کریم کے سراپا کا کیھنچا کہ دل اش اش کر اٹھا۔ پیر مہر علی شاہ صاحب نے اج سک متراں دی ودھیری اے۔ کیوں دلڑی اداس گنیری اے ، یوں لکھی کہ گمان ہوتا ہے، انہوں نے چشم تصور سے نہیں بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ کر یہ نعت لکھی ہے۔ اور انکے یہ شعر تو عشق و ورافتگی کی انتہا تھے اور یوں لگتا ہے وہ شاعری کے ساتھ مصوری بھی کر رہے ہیں۔
مکھ چند بدر شعشانی اے
متھے چمکے لاٹ نورانی اے۔
کالی زلف تے اکھ مستانی اے۔
مخمور اکھیں ہن مدھ بھریاں۔
یہ عشق و وارفتگی کی انتہا ہے، جو صرف نصیب والوں کے حصہ میں آتی ہے۔ کراچی کے نابینا شاعر اقبال عظیم دل کی آنکھوں سے روزہ رسول کو دیکھ کر کہہ رہے ہیں،” کہ جہاں روزہ پاک خیرالورا ہے۔ وہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے۔”” یہ خیال اس قدر سحر انگیز و دلنشین ہے، کہ بیان سے باہر ہے۔ کہ یہ روزہ رسول جنت کا ایک ٹکڑا ہی تو ہے۔جہاں ہر کوئی حاضری کا خواہش مند ہے، جو خود نہیں پہنچ پاتا، وہ بھی نعت ہی کی زبان میں اپنی عرضی یوں ڈالتا ہے۔” مزار مقدس پر جب حاضری ہو، میرا بھی نبی سے سلام عرض کرنا۔ “اور پھر انہی اقبال عظیم کا یہ شعر تو کمال کا ہے، کہ۔
میں تو خود انکے در کا گدا ہوں
اپنے آقا کو میں نذر کیا دوں۔
نعت خوانی تو اتنا وسیع موضوع ہے، کہ اس پر ایک دو آرٹیکل نہیں بلکہ کئی کتب لکھی جا سکتی ہیں۔ دراصل عشق نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مسلمان کے دل کے اندر موجزن ہے، جذبوں میں زندہ ہے، اور اسی تناظر میں جب ہم محمد علی ظہوری کو یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں، کہ” دنیا تے آیا کوئی تیری نہ مثال دا۔ میں لبھ کے لیاواں کتھوں سوہنا تیرے نال دا۔ تو دل کے دریچوں پر عشق و سرمستی کی ایک لہر دستک دیتے ہوئے یوں گزرتی ہے، کہ بندہ محسوس کرتا ہے، کہ ان اشعار کا اثر اسکے قلب و ذہن پربراہ راست ہو ریا ہے۔ ہمارے اندر جو عشق مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تپش ہے، جو لہر ہے، اور ذوق و شوق، اور عشق و وجدان ہے، وہ آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر کرم کے سبب ہی تو ہے۔ اس عشق کی چنگاری کا تو آقا کریم کے فیض و کرم کے بغیر سلگنا ممکن ہی نہیں۔ اسی لئے تو شاعر کو یہ کہنا پڑا، کہ آکھیں سوہنے نوہوائے نی، جے تیرا گزر ہووئے، میں مر کے بھی نیئں مردا جے تیری نظر ہووئے۔ اور پھر کسی شاعر نے یوں بھی تو کہا۔
روک لیتی ہے، آپکی نسبت، تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں۔
یہ کرم ہے حضور کا ہم پر آنے والے عذاب ٹلتے ہیں۔
اور پھر یہ کہہ کر تو شاعر نے کمال ہی کر دیا۔
کہ آو بازار مصطفٰی میں چلیں
کھوٹے سکے جہاں پہ چلتے ہیں۔
سچی بات یہ ہے کہ ہم جیسے خطا کاروں اور کھوٹے سکوں کی شنوائی دربار مصطفٰی صل للہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ اور کہاں ہو سکتی ہے۔ وہی تو ہماری فریادیں سنتے اور داد رسی فرماتے ہیں۔ کہ اللہ تعالٰی کے اس محبوب ترین نبی کا در گناہ گاروں اور خطا کاروں کی آس و امید کا مرکز و محور بھی تو ہے۔ اب اگر کوئی تڑپتے دل سے امید و رجا کی نغمگی کی آمیزش سے دربار نبوی میں کھڑا ہو کر یوں فریاد رساں ہو، کہ
” ایک بھکاری ہے کھڑا آپ کے دربار کے پاس۔
میں گناہ گار گناہوں کے سوا کیا لاتا۔
تو کیا منظر ابھرتا ہے۔ کیا دربار رسالت میں بھکاری اور سائل بن کر جانے کے علاوہ بھی کوئی طریقہ ہے۔ اور وہ بھی عقیدت و مودت کے ساتھ مگر بھیگی پلکوں اور کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ۔ وہاں کھڑے ہوکر تو سوائے مانگنے کے دیگر کسی چیز کا ہوش بھی نہیں رہتا کہ یہ محبوب خدا کا دربار ہے اور یہاں جھولیاں بھر دی جاتی ہیں۔ بس مانگنے والے کو مانگنا آتا ہو۔ اور یہ شعر بھی اگر زبان پر ہو، کہ
” مجھ خطا کار سا انسان مدینے میں رہے
بن کے سرکار کا مہمان مدینے میں رہے،
تو سرکار مدینہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے مہمانوں سے سلوک خوب سے خوب تر، سبحان اللہ
(جاری ہے۔ )



