تہران،جنیوا(نیشنل ٹائمز) ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خلیج میں واقع اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے ۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق مشقوں کا مقصد ممکنہ سکیو رٹی خطرات سے نمٹنے کی تیاری ہے ۔ مشقوں کی نگرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل محمد پاکپور کررہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمیاں ایسے وقت میں شروع ہوئی ہیں جب امریکا نے خلیج میں اپنی بڑی بحری قوت تعینات کی ہے ۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل ترسیل کیلئے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے اور یہاں کسی بھی کشیدگی کے عالمی منڈیوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق جنگی مشقوں کے بنیادی مقاصد میں پاسداران انقلاب بحریہ کی آپریشنل تیاریوں اور آبنائے ہرمز میں ممکنہ سکیورٹی اور فوجی خطرات کی صورت میں جوابی فوجی کارروائی سے متعلق منصوبوں کا جائزہ لینا اور خلیج و بحیرہ عمان میں ایران کی جغرافیائی و سٹریٹجک اہمیت کا مو ثر استعمال شامل ہے ۔امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور آج جنیوا میں ہوگا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنیوا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا منصفانہ اور مساوی معاہدے کے حصول کے لیے آئے ہیں، ایران دھمکیوں کے آگے سر نہیں جُھکائے گا۔ سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر بھی جنیوا پہنچ رہے ہیں۔ عمان کی ثالثی میں امریکا ایران بالواسطہ مذاکرات کا پہلا دور 6 فروری کو ہوا تھا۔ ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکی رویہ حقیقت پسندانہ ہو گیا ہے ۔ترجمان کے مطابق اب تک کی بات چیت میں امریکی پوزیشن میں خاطر خواہ لچک نظر آئی ہے ۔
آبنائے ہر مز میں ایرانی پاسداران انقلاب کی جنگی مشقیں



