پاکستانی ادویات پر پابندی سے افغانستان میں بحران

کابل (نیشنل ٹائمز) افغانستان میں ادویات کی منڈی میں اصلاحات کے حکومتی فیصلے کے بعد مختلف مسائل سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ماہرین کے مطابقادویات کی درآمدات پر اچانک پابندی اور پالیسی میں تیز رفتار تبدیلیوں نے مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے اور قلت کو جنم دیا ہے ۔ تاہم یہ تبدیلی افغانستان جیسے ملک کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو رہی ہے ، جو اپنی نصف سے زائد ادویات پاکستان سے درآمد کرتا رہا ہے ۔کابل میں فارماسسٹ مجیب اللہ افضلی کے مطابق، “کچھ ادویات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور کچھ دستیاب نہیں رہیں، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔”ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر متبادل سپلائی کا بندوبست جلد نہ کیا گیا تو صحت کے شعبے میں بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے ۔افغانستان میں پاکستان سے درآمد پر پابندی کے بعد ادویات اب دیگر ممالک سے منگوائی جا رہی ہیں، جس کے باعث ترسیل کا دورانیہ اور نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے ، جبکہ لاجسٹک مسائل بھی بڑھ گئے ہیں۔کابل کے ایک فارماسسٹ مجیب اللہ افضلی نے بتایا کہ انہوں نے ایران کی سرحد پر واقع اسلام قلعہ کراسنگ کے ذریعے ادویات درآمد کرنا شروع کر دی ہیں، جس سے ٹرانسپورٹ فیس میں 10 سے 15 فیصد تک اضافہ ہوا ہے ۔فارماسیوٹیکل صنعت سے براہِ راست وابستہ ایک شخص نے سکیورٹی خدشات کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ پہلے ادویات کی مجموعی لاگت میں ٹرانسپورٹ کا حصہ چھ سے سات فیصد ہوتا تھا، جو اب بڑھ کر 25 سے 30 فیصد تک پہنچ گیا ہے ۔ان کے مطابق کاروباری مالکان کو اب تک مجموعی طور پر لاکھوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے ۔انہوں نے کہا، “اگر پہلے مارکیٹ میں کسی دوا کی قلت ہوتی تھی تو پاکستان کو فون کیا جاتا تھا اور دوا دو سے تین دن میں پہنچ جاتی تھی۔”انہوں نے مزید کہا کہ چاہے قانونی طریقے سے ہو یا غیر قانونی طور پر، ادویات تیزی سے فراہم کر دی جاتی تھیں۔کچھ ادویات جو افغانستان میں تیار کی جا رہی ہیں، وہ پاکستان سے درآمد ہونے والی ادویات کے مقابلے میں مہنگی ثابت ہو رہی ہیں، جبکہ پاکستانی ادویات نے برسوں کے دوران صارفین کا اعتماد حاصل کیا تھا۔صنعتی ذریعے کے مطابق بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ “اگر وہ پاکستانی دوا استعمال کریں گے تو صحت یاب ہو جائیں گے “، لیکن اگر دوا بھارت یا کسی اور ملک سے ہو تو وہ اتنا اعتماد محسوس نہیں کرتے ۔دوسری جانب معالجین کو بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔ کابل میں ایک صحت فراہم کرنے والے نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ ڈاکٹروں کو نسخے تبدیل کرنا پڑ رہے ہیں، مناسب متبادل تلاش کرنے ہوتے ہیں اور علاج کے منصوبے میں ردوبدل کے لیے اضافی وقت صرف کرنا پڑتا ہے ۔ان کے بقول، “مریضوں کو ادویات کی قلت، بار بار متبادل ادویات کی تبدیلی اور بعض اوقات زیادہ قیمتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔”



  تازہ ترین   
باجوڑ: چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ، 11 جوان شہید، 12 خوارج جہنم واصل
بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کیا، پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی: وزیر اعظم
عمران خان کو اڈیالہ جیل میں حاصل سہولیات کے بارے میں رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع
بانی جیل نہیں کاٹ سکتے تو کوئی آسان کام کر لیں: آصف زرداری
خیبر: پولیس، ایلیٹ فورس اور سی ٹی ڈی کی کارروائی، 3 دہشتگرد ہلاک، 3 اہلکار شہید
محسن نقوی نے ہمیشہ کوشش کی بانی پی ٹی آئی کو رہائی مل جائے: علی امین گنڈا پور
آسٹرین چانسلر وزیراعظم شہباز شریف کی جرمن زبان میں کی گئی گفتگو پر حیران
بانی پی ٹی آئی کو ڈیل دی جا رہی ہے نہ ڈھیل، تمام باتیں قیاس آرائیاں ہیں: عطا تارڑ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر