لاہور،گجرات (نیشنل ٹائمز)وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ ذاتیات ، جھوٹ، انتشار اور فتنے کواٹھاکر سیاست سے باہر پھینک دیں، سیاست کو دشمنی میں بدلنا غلط ہے ،13سال سے کے پی کے میں ایک ہی حکومت ہے ،کسی کو معلوم نہیں ترقی کس چڑیا کا نام ہے ، ترقی نہیں بس کہتے ہیں شعور دے رہے ہیں، اٹک کے پار کے پی کے ہے ، جہاں بچوں کی زبان پر گالی اور ہاتھ میں ہتھیار تھما ئے جاتے ہیں، معصوم بچوں کے ذہنوں میں تشدد بھرا جاتا ہے ، جو روزگار بند کرکے ٹائر جلاتے پھرتے ہیں،وہاں بچے پتھرکے زمانے میں رہتے ہیں اور پنجاب میں ترقی دیکھو،اِدھر ہونہار ہیں ،اُدھر انتشار ہے ۔کے پی کے میں انتشار ہونا میرے لئے قطعاً خوشی کی بات نہیں، میں پنجابی بعد میں ہوں پاکستانی پہلے ہوں۔گجرات یونیورسٹی میں ہونہار سکالر شپ اور لیپ ٹاپ تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہونہار سکالر شپ اور لیپ ٹاپ کی تقسیم کی تقریب محض روایتی تقریب نہیں بلکہ ایک جشن ہے جو ایک ماں بچے کی کامیابی پر مناتی ہے ، پنجاب کے پاس جتنے وسائل ہیں، دل چاہتا سب اپنے بچوں پرنچھاور کر دوں ، بچوں سے کہتی ہوں خواب دیکھو،میں آپ کے پیچھے چٹان کی طرح کھڑی ہوں۔ مجھے خوشی ہے کہ میرے ملک کا مستقبل جین زی صحیح راستے پر ہیں، انہی بچوں نے ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے راستے بند کرنے سے پنجاب اور سندھ کو کوئی فرق نہیں پڑتا، معلوم ہوا راستے بند ہونے کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں متعدد لوگ ایمبولینس میں جان سے چلے گئے ۔ ہڑتال کا اعلان چند ارب پتیوں نے کیا، ڈنڈے پکڑا کر دکانیں بند کرنے کو کہا۔ میں سمجھتی ہوں بدتمیزی، شرپسندی خیبرپختونخوا کے بچوں کانصیب نہیں ہوسکتی۔اقتدار مٹھی میں ریت کی طرح پھسلتا ہے ، آج اِس کے پاس، کل اُس کے پاس ہوگا، اقتدار اللہ تعالیٰ کی امانت ہے ۔ مریم نواز نے کہامیرے 72 سالہ والد جیل میں بیمار ہوگئے ، ہارٹ اٹیک ہوا، ان کااور ان کی بیماری کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ میں والد کے ساتھ جیل میں تھی، والدہ مرحومہ کو کینسر ہوگیا،میری والدہ کی بیماری کا مذاق اڑایا گیا، کہتے تھے وہ بیمار ہی نہیں ہیں۔ میری والدہ لندن کے ہسپتال کے آئی سی یو میں تھیں، کچھ لوگ ڈاکٹر کی یونیفارم پہن کر اندر داخل ہوگئے ، یہاں انسان کو بیماری ثابت کرنے کے لئے مرنا پڑتا ہے ۔ والدہ کا انتقال ہوا تو والد نے سیل میں آکر بتایا کہ آپ کی والدہ ا للہ کے پاس چلی گئی ہیں۔ حلف اٹھا کر کہتی ہوں کہ نواز شریف ،شہباز شریف اور میں نے کبھی سوچا بھی نہیں کہ جیل میں اس کا کھانا یا ٹی وی بند کریں۔نواز شریف صاحب نے کہا کہ ایک اے سی ہے تو اسے دے دو،سیاست میں نہ ہونے کے باوجود پہلی خاتون کے طور پر مجھے نیب جیل میں بند کیا گیا۔ان کے پاس لیڈیز جیل نہیں تھی، وہ کہتا تھا کہ نواز شریف کی بیماریوں کو دیکھا تو لمبی لسٹ تھی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آپ اختلاف کرسکتے ہیں مگربیماریوں کا مذاق اڑانا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو بیمار ہے اس کیلئے ہم شفا کی دعا کرتے ہیں، اس کا برا کوئی نہیں چاہتا، جس قسم کی بھی سہولت اسے چاہئے ، اسے ڈاکٹرز اورعلاج چاہئے وہ اسے دیا جا رہا ہے ، جس علاج کی اسے ضرورت ہے وہ اسے دیا جارہا ہے ، یہ اڈیالہ جیل میں ہے لیکن میں نے کبھی نہیں کہا کہ اس کو کھانا نہ دو، اس کو یہ نہ دو اس کو وہ نہ دو ، وہ اچھا کھانا کھاتا ہے تو مریم نواز شریف کو خوشی ہے مجھے کوئی پرابلم نہیں، اس کا برا کوئی نہیں چاہتا لیکن آپ نے یہ حرکتیں کبھی نہیں کرنی، آپ اختلاف کریں ، پرفارمنس، پالیسی اور خدمت پر سوال کریں، سیاست میں ذاتیات کو اٹھا کر باہر پھینک دیں، انتشار، فتنہ، گھیراؤ جلاؤ ، آگ لگانے کو اٹھا کے پاکستان سے باہر پھینک دیں۔میں بچوں سے کہتی ہوں پاک دھرتی کے ذرے ذرے کو سنبھال کررکھنا ہے ، دنگا فساد نہیں کرنا،املاک اور گرین بیلٹوں کو آگ نہیں لگانی بلکہ وطن کی حفاظت کرنی ہے ۔وزیراعلیٰ کی یونیورسٹی آف گجرات آمد پر طلبہ نے پرتپاک استقبال کیا۔مریم نواز طا لبات کے درمیان بیٹھ گئیں۔طلبہ کے اعزاز میں لیڈیز پولیس کے چاق وچوبند دستے نے سلامی پیش کی۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے ایکس پر رمضان المبارک میں ضرورت مند خاندانوں کی فوری مدد کیلئے مریم کو بتائیںپروگرام شروع کرنے کا اعلان کردیا۔اس پروگرام کے تحت مالی مشکلات کا شکار افراد 24گھنٹے میں 10ہزار روپے تک مالی امداد حاصل کرسکیں گے ۔ یکم رمضان المبارک سے مریم کو بتائیںہیلپ لائن 1000فنکشنل ہوگی۔
خیبر پختونخوا، بچے پتھر کے زمانے میں رہتے ہیں، پنجاب میں ترقی دیکھو : مریم نواز



