لاہور(نیشنل ٹائمز) وفاق کے بعد پنجاب حکومت نے بھی ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے بڑا انتظامی فیصلہ کرتے ہوئے سروسز پر سیلز ٹیکس کے نظام کو پازیٹو لسٹ سے نیگیٹو لسٹ میں منتقل کرنے کی منظوری دے دی ، پنجاب فنانس ایکٹ 2025 کے بعد اس تبدیلی کو باضابطہ قواعد میں شامل کر دیا گیا ۔ نئے نظام کے تحت اب ہر وہ سروس قابلِ ٹیکس تصور کی جائے گی جو واضح طور پر مستثنٰی نہ ہو۔ اس اقدام سے ٹیکس نیٹ میں نمایاں وسعت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ چھوٹے سروس فراہم کرنے والوں، فری لانسرز، کنسلٹنٹس، بیوٹی پارلرز، ورکشاپس اور ڈیجیٹل سروسز کو بھی ٹیکس نظام میں شامل کئے جانے کی راہ ہموار ہوگئی ۔ پنجاب حکومت کامؤقف ہے کہ اس اقدام سے ٹیکس چوری کم ہوگی اور ریونیو میں اضافہ ہوگا۔رجسٹریشن اور ریٹرن فائلنگ قواعد میں بڑی ترامیم کی منظوری دی گئی ہے ۔ پٹرولیم ٹرانسپورٹ اور آئل ٹینکر سیکٹر کیلئے خصوصی قواعد میں بھی تبدیلی کی گئی ہے ، جس کے بعد اس شعبے کی مانیٹرنگ اور ٹیکس کلیکشن کا نظام مزید مربوط کیا جائے گا۔
پنجاب حکومت کاٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے بڑا انتظامی فیصلہ



