میونخ، جرمنی (شِنہوا) چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے جاپان میں حالیہ خطرناک رجحانات کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تائیوان کے مسئلے پر جاپانی قیادت کے غلط بیانات براہ راست چین کی خودمختاری اور بعد از جنگ بین الاقوامی نظام کو چیلنج کرتے ہیں۔
وانگ یی، جو کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن بھی ہیں، نے یہ بات 62 ویں میونخ سکیورٹی کانفرنس میں “چائنہ ان دی ورلڈ” سیشن کے دوران خطاب اور سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہی۔
ایشیا پیسیفک میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے حوالے سے چین کی ذمہ داری سے متعلق سوال کے جواب میں وانگ نے کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ علاقائی صورتحال مسلسل کشیدہ ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا پر نظر ڈالیں تو صرف ایشیا ہی مجموعی طور پر امن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ حتیٰ کہ حالیہ مقامی تنازعات، جیسے کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کی سرحد پر جھڑپیں بھی تمام فریقین کی کوششوں سے جلد ختم ہو گئیں جس میں چین نے بھی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین ایشیا میں امن کا ستون بن چکا ہے اور عالمی امن کی ایک اہم قوت کے طور پر علاقائی استحکام میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
تاہم وانگ نے کہا کہ ایشیا پیسیفک چیلنجز سے خالی نہیں ہے اور جاپان میں ابھرنے والے خطرناک رجحانات کے خلاف ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
وانگ نے کہا کہ تاریخ کے اسباق زیادہ دور نہیں اور ان کا گہری نظر سے جائزہ لینا چاہیے۔ اگر جاپان توبہ نہیں کرتا تو وہ لازماً وہی غلطیاں دہرائے گا، اس لئے نیک نیت لوگوں کو ہوشیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے جاپانی عوام کو خبردار کیا کہ وہ انتہا پسند دائیں بازو کی قوتوں اور شدت پسند نظریات کے فریب میں دوبارہ نہ آئیں۔ وانگ نے امن پسند ممالک پر زور دیا کہ وہ جاپان کو واضح پیغام دیں کہ اگر اس نے ماضی کے راستے پر واپس جانے کی کوشش کی تو وہ اپنی تباہی کا خود سبب بنے گا اور اگر اس نے دوبارہ جوا کھیلا تو اسے پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے شکست اور زیادہ بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔
چین کا جاپان کو سخت پیغام، تائیوان پر جاپانی بیان بازی مسترد



